دکھائیں کتب
  • 1 100 حرام کاروبار اور تجارتی معاملات (بدھ 05 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:4836

    ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َیا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے ۔ زیر نظر کتاب ’’ 100 حرام کاروبار اورتجارتی معاملات‘‘ شیخ ابراہیم بن عبد المقتدر﷾ کی عربی کتاب ’’تحذیر الکرام من مائۃ باب من ابواب الحرام‘‘ کا سلیس اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب میں تجارتی معاملات اور خرید وفروخت کے متعلق جدید مسائل کوبڑے احسن پیرائے میں درج کیا گیا ہے ۔ اور اس کتاب کی امیتازی خوبی یہ ہے کہ   اس میں تمام شرعی مسائل اور دینی تعلیمات کو ایک ایک کہانی اور مکالمے کی شکل میں پیش کیا گیا ہے جس سے پڑہنے والا متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا اور کتاب کو شروع کرنے کےبعد ختم کیے بغیر چھوڑنے کودل نہیں چاہتا۔اللہ تعالیٰ اس کتاب کو مصنف،مترجم ،ناشر اور جملہ معاونین کے لیے ذخیرۂ آخرت اور بلندی...

  • 2 500 سوال و جواب برائے خریدو فروخت (جمعرات 06 نومبر 2014ء)

    مشاہدات:3702

    اسلامی معاشیات شرعی تجارت کی بنیاد پر قائم ہے جس میں اللہ تعالیٰ کےحلال کردہ کاموں میں ،معاملات کے شرعی قواعد وضوابط کے مطابق سرمایہ کاری اورتجارت کی جاتی ہے ۔ان قواعد کی بنیاد اس قانون پر قائم ہے کہ معاملات میں اباحت اور حلال ہونا اصل قانون ہے اور ہر قسم کی حرام کردہ اشیاء جیسے : سود وغیرہ سے اجتناب لازمی ہے۔ارشاد باری تعالیٰ ہے :وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا(سورۃ البقرۃ:257)’’ اللہ نے بیع کو حلا ل اور سودکوحرام کیا‘‘ لہذا ہرمسلمان کے لیے اپنے دنیوی واخروی تمام معاملات میں شرعی احکام اور دینی تعلیمات کی پابندی از بس ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :َا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا ادْخُلُوا فِي السِّلْمِ كَافَّةً وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ إِنَّهُ لَكُمْ عَدُوٌّ مُبِينٌ(سورۃ البقرۃ:208)’’اے اہل ایمان اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ اور شیطان کے قدموں کے پیچھے مت چلو ،یقیناً وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ‘‘ کسی مسلمان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ عبادات میں تو کتاب وسنت پر عمل پیرا ہو او رمعاملات او رمعاشرتی مسائل میں اپنی من مانی کرے او راپنے آپ کوشرعی پابندیوں سے آزاد تصور کرے۔ ہمارے دین کی وسعت وجامعیت   ہےکہ اس میں ہر طرح کے تعبدی امور اور کاروباری معاملات ومسائل کا مکمل بیان موجود ہے او ہر مسلمان بہ آسانی انہیں سمجھ کر ان پر عمل پیرا ہوسکتاہے۔ زیر نظر کتاب ’’500 سوال وجواب برائے خرید وفروخت ‘‘تجارتی معاملات اور خریدوفروخت کےمتعلق عالم اسلام کے کبار علمائے دین کے 500 فتاوی ج...

  • 3 ابتدائی قواعد النحو (بدھ 04 ستمبر 2013ء)

    مشاہدات:9745

    علم نحو تمام عربی علوم و معارف کے لئے ستون کی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ تمام عربی علوم اسی  کی مدد سے چہرہ کشا ہوتے ہیں ۔ علوم نقلیہ کی جلالت و عظمت اپنی جگہ مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے اسرار و رموز اور معانی و مفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں ۔ حق یہ ہے کہ قرآن و سنت اور دیگر علوم سمجھنے کے لئے علم نحو کلیدی حیثیت رکھتا ہے ، علم نحو کی اس اہمیت کے پیش نظر عربی ، فارسی اور دیگر زبانوں میں اس فن کی مفصل و مطول ، متوسط اور مختصر ہر طرح کی کتابیں لکھی گئیں ۔ اردو زبان میں صرف و نحو کی کتابیں لکھنے کا مقصد لسانی اصول و قواعد کی تسہیل و تفہیم اور عربی زبان کی ترویج و اشاعت ہی تھا ۔ کیونکہ فن تعلیم کا اصول اور تجربہ یہ ہے کہ اگر ابتدائی طور پر کوئی مضمون مادری زبان میں ذہن نشین ہو جائے تو پھر اسے کسی بھی اجنبی زبان میں تفصیل و اضافہ سمیت بخوبی پڑھا اور سمجھا جا سکتا ہے ۔ زیر نظر کتاب اسی مقصد کے تحت ایف ائے طلبا کی ذہنی استعداد کے پیش نظر لکھی گئی ہے ۔ اس کتاب کے اندر قواعد و مسائل کی عام فہم اور آسان اسلوب  میں وضاحت کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ (ع۔ح)

  • 4 ابواب الصرف (جمعہ 21 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19527

    دین اسلام کو سمجھنے اور جاننے کے لئے علوم آلیہ کا جاننا ضروری ہے۔ ایک ماہر محقق اور عربی دان بننے کے لئے خاص طور پر عجمیوں کو مذکورہ علوم کا حصول درکار ہوتا ہے۔ عربی کی عبارت کو جاننے اور ان کی اصلاح کے لئے صرف و نحو کے قوائد ایک مرکزی اور بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ ذخیرہ عربی میں صرف و نحو تقریباً ساٹھ اور چالیس کے تناسب سے موجود ہے اور ان ہر دو علوم سے متعلق قواعد میں صرف انتہائی اہم علم ہے اور اس علم پر کئی عربی اور فارسی کتب مرتب کی گئی ہیں۔ برصغیر کے مدارس میں تفصیلی کتب نصاب میں شامل ہیں۔ لیکن مولانا محمد بارک لکھوی کی مرضی پر لکھی گئی یہ کتاب کلیدی حیثیت رکھتی ہے اور اس کی افادیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے درس نظامی کی پہلی کلاسز میں اس کو جگہ دی گئی ہے۔ تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے اور یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو پیش نظر رکھتے ہیں لہٰذا مذکورہ کتاب اپنی اہمیت کے حساب سے ایک مسلم حیثیت کی حامل ہے۔

  • 5 ابواب الصرف ( دار السلام) (پیر 15 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:4028

    عربی زبان ایک زندہ وپائندہ زبان ہے۔ اس میں ہرزمانے کے ساتھ چلنے کی صلاحیت موجود ہے۔ اس زبان کو سمجھنے اور بولنے والے دنیا کے ہر خطے میں موجودہیں ۔عربی زبان وادب کو سیکھنا اور سکھانا ایک دینی وانسانی ضرورت ہے کیوں کہ قرآن کریم جوانسانیت کے نام اللہ تعالیٰ کا آخری پیغام ہے اس کی زبان بھی عربی ہے۔ عربی زبان معاش ہی کی نہیں بلکہ معاد کی بھی زبان ہے۔ اس زبان کی نشر واشاعت ہمارا مذہبی فریضہ ہے۔ اس کی ترویج واشاعت میں مدارس عربیہ اور عصری جامعات کا اہم رول ہے ۔عرب ہند تعلقات بہت قدیم ہیں اور عربی زبان کی چھاپ یہاں کی زبانوں پر بہت زیادہ ہے۔ہندوستان کا عربی زبان وادب سے ہمیشہ تعلق رہا ہے۔ یہاں عربی میں بڑی اہم کتابیں لکھی گئیں اور مدارس اسلامیہ نے اس کی تعلیم وتعلم کا بطور خاص اہتمام کیا۔زیر تبصرہ کتاب "دار السلام ابواب الصرف"قرآن وسنت کی اشاعت کے عالمی ادارے مکتبہ دار السلام کے  زیر اہتمام چھ اہل علم کی کوششوں سے تیار کی گئی ہے۔اور اسے دارالسلام ابواب الصرف کانام دیا گیا ہے۔صرف کے ابواب پر سب سے پہلی کتاب مولانا محمد بارک اللہ  لکھوی﷫ نے ابواب الصرف کے نام سے لکھی اور یہ کتاب بھی اسی کا جدید ایڈیشن ہے ،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ اس میں کہیں بھی مولانا بارک اللہ لکھوی ﷫ کا کوئی تذکرہ موجود نہیں ہے۔بہتر ہوتا کہ ان کا بھی کہیں نہ کہیں تذکرہ کر دیا جاتا۔بہر حال یہ کتاب درس نظامی کی پہلی کلاسز کے لئے تیار کی گئی ہے تاکہ مرکزی علوم کو جاننے کے لئے مبتدی طلباء کو یہ کتاب ازبر کروا دی جائے ۔ یہی وجہ ہے کہ مبتدی طلباء عالم بننے تک کے سفر میں اسی کو...

  • 6 اجراء النحو (جمعرات 07 ستمبر 2017ء)

    مشاہدات:1680

    کوئی بھی زبان سیکھنے کے لیے اس زبان کی گرامر پر عبور بنیادی شرط ہے اور عربی زبان سیکھنے کے لیے عربی زبان کی گرامر صرف نحو کی اہمیت محتاجِ تعارف نہیں۔ عربی زبان میں صرف ونحو کی حیثیت محض گرامر کی نہیں‘ بلکہ مستقل فن کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سوائے عربی کے دیگر زبانوں میں مستقل طور پر گرامر کے ائمہ کا وجود نہیں ملتا‘ جب کہ عربی زبان میں خاص اس لقب سے کئی ائمہ وعلماء متصف ہیں اور جس قدر صرف ونحو پر لکھا گیا اتنا کسی اور زبان کی گرامر پر نہیں لکھا گیا ۔۔زیرِ تبصرہ کتاب  بھی عربی زبان کی گرامر پر مشتمل ہے۔ اس میں نحو میر کے مضامین کو اسی ترتیب پر قدرے تبدیلی کے ساتھ اسباق کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ ہر سبق کا آسان اور دل نشین خلاصہ مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے‘ اس کتاب میں آسانی سے مشکل کی طرف بتدریج بڑھنے کے طریقے کو اپنایا گیا ہے۔ہر سبق کا آغاز مختلف چارٹ اور مجموعات سے  کیا گیا ہے اور پھر ان کی روشنی میں سبق کی تشریح کی گئی ہے۔ ہر سبق کے آخر میں اہم باتوں اور مضامین کو سوالات کی صورت میں تمرین کے طور پر ذکر کیا گیا ہے۔اجراء کے سلسلے میں زیادہ تر قرآنی کریم سے مدد لی گئی ہے مزید وضاحت کے لیے احادیث کی طرف بھی رجوع کیا گیا ہے اور دیگر عام مثالوں کو بھی قرطاس کی زینت بنایا گیا ہے۔ یہ کتاب’’ اجراء النحو ‘‘ مفتی ضیاء الرحمان صاحب کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی درجنوں  کتب اور  بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے...

  • 7 الشرف الواضح شرح اردو النحو الواضح جلد 01 (پیر 16 اپریل 2018ء)

    مشاہدات:862

    علومِ نقلیہ کی جلالت وعظمت اپنی جگہ مسلمہ ہے مگر یہ بھی حقیقت کہ ان کے اسرار ورموز اور معانی ومفاہیم تک رسائی علم نحو کے بغیر ممکن نہیں۔ کیونکہ علومِ عربیہ میں علم نحو کو جو رفعت ومنزلت حاصل ہے اس کا اندازہ اس امر سے بہ خوبی ہو جاتاہے کہ جو بھی شخص اپنی تقریر وتحریر میں عربی دانی کو اپنانا چاہتا ہے وہ سب سے پہلے نحو کےاصول وقواعد کی معرفت کا محتاج ہوتا ہے کلام ِالٰہی ،دقیق تفسیر ی نکات،احادیث رسول ﷺ ،اصول وقواعد ،اصولی وفقہی احکام ومسائل کا فہم وادراک اس علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا یہی وہ عظیم فن ہےکہ جس کی بدولت انسان ائمہ کےمرتبے اور مجتہدین کی منزلت تک پہنچ جاتاہے ۔عربی مقولہ ہے : النحو فی الکلام کالملح فی الطعام یعنی کلام میں نحو کا وہی مقام ہے جو کھانے میں نمک کا ہے ۔ قرآن وسنت اور دیگر عربی علوم سمجھنےکے لیے’’ علم نحو‘‘کلیدی حیثیت رکھتاہے اس کے بغیر علوم ِاسلامیہ میں رسوخ وپختگی اور پیش قدمی کاکوئی امکان نہیں ۔ قرنِ اول سے لے کر اب تک نحو وصرف پرکئی کتب اور ان کی شروح لکھی کی جاچکی ہیں ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  بھی عربی زبان کی گرامر پر مشتمل ہے۔ اس میں نحو کے مضامین کو اسی ترتیب پر قدرے تفصیل کے ساتھ اسباق کے تحت بیان کیا گیا ہے۔ ہر سبق کا آسان اور دل نشین خلاصہ مثالوں کے ساتھ بیان کیا گیا ہے‘ اس کتاب میں آسانی سے مشکل کی طرف بتدریج بڑھنے کے طریقے کو اپنایا گیا ہے۔ہر سبق کا آغاز مختلف چارٹ اور مجموعات سے  کیا گیا ہے اور پھر ان کی روشنی میں سبق کی تشریح کی گئی ہے۔ ہر سبق کے آخر میں اہم ب...

  • 8 القرآنیون (بدھ 06 فروری 2013ء)

    مشاہدات:103277
    ’القرآنیون‘ عربی زبان میں محترم جناب خادم حسین صاحب کی ایک بہترین کاوش ہے۔ موصوف جامعہ ام القریٰ طائف میں بطور استاذ خدمات سرانجام دے رہےہیں۔ پاکستان کے ضلع مظفر گڑھ سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ کتاب دراصل ان کا ایم۔ اے کا مقالہ ہے۔ کتاب کی ابتدا میں انھوں نے برصغیر پاک و ہند میں فرقہ اہل قرآن کےبانیوں کا تعارف کرایا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے اساسی نظریات کو بیان کیا ہے، جیسے عبداللہ چکڑالوی، خواجہ احمد دین، سرسید احمد خان اور اسلم جیراجپوری اور اس کے ساتھ ساتھ ان لوگوں کا بھی تعارف کرایا ہے جو انکار حدیث کے نظریات کے قائل تھے یا کم ازکم متاثر ضرور تھے۔ اور آخر میں غلام احمد پرویز کا بطور خاص ذکر کیا گیا ہے۔ شیعہ، خوارج اور معتزلہ جوکہ قدیم منکرین حدیث میں شامل ہیں ان کا سنت کے متعلق نظریہ اور موقف کو بھی کتاب کا حصہ بنایا ہے۔ ماضی قریب سے لے کر موجودہ دور کے حکمرانوں کا کردار و نظریات بیان کیے ہیں جو جزوی طور پر یا کلی طور پر انکار حدیث کے افکار سے متاثر تھے۔ دوسرے باب میں منکرین حدیث کے استدلالات کے تارو پود بکھیر دئیے ہیں۔ اور ان کے دلائل کی کمزوریوں کو آشکارا کیا ہے۔ جزوی مسائل کے علاوہ کلی اصولوں پر بھی بحث کی گئی ہے۔ تیسرے باب میں اعتقادی مسائل کو ہدف بنایا گیا ہے اور منکرین حدیث کےموقف کا شافی رد کیا گیاہے۔ آخری باب میں منکرین حدیث کے نماز، زکوۃ، روزہ اور حدود شرعیہ سے متعلق نظریات کا جائزہ لیا گیا ہے اور ان کا شافی جواب دیا ہے۔ آخر میں وصیت وراثت کے مسائل کو بھی بالتفصیل بیان کیا گیا ہے۔ عربی زبان سے شد بد رکھنے والے صاحبان علم کے لیے ا...
  • 9 اللہ کی نشانیاں (ہفتہ 26 مارچ 2011ء)

    مشاہدات:10620

    الحاد، لادینیت اور انکار خدا اس دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے جس کی بنیاد اہل سائنس نے مغرب میں رکھ دی ہے۔ ہارون یحی جمہوریہ ترکی کے ایک نامور قلم کار ہیں اور وہ اپنی تحریروں میں جدید مادہ پرستانہ افکار اور نظریات کا شدت سے رد کرتے ہیں۔ ہارون یحی کے خیال میں سائنس اور یہودیوں کی فری میسنز تحریکوں نے انکار خدا کے نکتہ نظر کو عام کرنے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ ہارون یحی کے بقول مادہ پرستوں کے پاس اس کائنات کی تخلیق کی واحد بھونڈی دلیل ڈارون کا نظریہ ارتقاء ہے جس کے حق میں وہ بغیر سوچے سمجھے دلائل دیتے چلے جاتے ہیں اور اس نظریہ کے دفاع کے لیے کٹ مرنے پر بھی تیار ہو جاتے ہیں۔ سائنس کی دنیا میں دو نظریات کو بہت پذیرائی ملی ایک ڈارون کا نظریہ اور دوسرا بگ بینگ تھیوی۔ یہ دونوں نظریات اس دوسرے کے مخالف ہیں۔ ڈارون کی تھیوری کا خلاصہ یہ ہے کہ اس کائنات کا کوئی خالق نہیں ہے بلکہ مادہ ہمیشہ سے ہے اور اپنی شکلیں تبدیل کرتا رہا ہے یعنی مادہ نے ارتقاء کے مختلف مراحل طے کر کے اس کائنات کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ا س تھیوری کے مطابق مادہ دائمی ہے، ازل سے ہے اور مستقل حیثیت کا حامل ہے۔ اس کے برعکس سائنس دنیا میں ایک جدید تھیوری بگ بینگ کے نام سے پیش کی گئی ہے کہ جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ کائنات اور مادہ ازلی نہیں ہے بلکہ اس کی ایک ابتدا ہے اور ایک وقت میں یہ کائنات اور مخلوقات یک دم بغیر کسی ارتقاء سے گزرے ہوئے وجود میں آ ئے ہیں۔ بگ بینگ کی تھیوری کو ماننے کا لازمی نتیجہ ایک خالق کو ماننا نکلتا ہے۔ اپنی اس کتاب میں ہارون یحی نے بگ بینگ کی تھیوی کی وکالت کی ہے...

  • 10 اللہ کی نشانیاں عقل والوں کے لیے (منگل 30 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:2492

    اللہ تعالیٰ نے  قرآن  کریم  میں سورۂ بقرہ کی آیت 164 میں  فرمایا کہ  قرآن  کریم  کے نزول کا  ایک مقصد  یہ بھی ہے کہ لوگوں کوسوچنے اور سمجھنے کی دعوت دے۔اسی طرح کی سیکڑوں  آیات قرآن حکیم  میں جابجا بکھری ہوئی  ہیں اور  لوگوں کو مخلوقات پر غور  وفکر کی دعوت دیتی ہیں ۔زیر نظرکتاب’’  اللہ کی نشانیا ں عقل والوں کے لیے ‘‘ عالمی شہرت یافتہ   محترم ہارون یحییٰ  صاحب کی    کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔اس کتاب کامقصد بھی یہی کہ لوگوں کو اللہ کی بے شمار نشانیوں میں سے  چند کی طرف  متوجہ  کیا سکے ۔ہارون یحییٰ ترکی کے ایک معروف مصنف ہیں جنہوں نے مادیت اور فری میسزی یہودی تحریکوں کی تردید میں متعددکتابیں لکھی ہیں۔ ہارون یحییٰ اس وقت دنیا میں مادیت پرستی(Materialism) اور ڈاونزم(Darwanism) کا سب سے بڑے  ناقد ہیں۔ عموماًہارون یحییٰ کی تحریروں میں اللہ کی قدرتوں، نشانیوں اورتخلیق کے نمونوں کو موضوع بحث بنایا جاتا ہے۔مصنف کی یہ کتاب بھی اس کائنات میں بکھرے ہوئے عجائبات کے ذریعے اپنے خالق و رب کی معرفت حاصل کرنے کی ایک سعی وجہد ہے۔اللہ ان کی سربلندی کےلیے  تمام کاوشوں کو  قبول فرمائے(آمین) (م۔ا)

     

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 152
  • اس ہفتے کے قارئین: 3100
  • اس ماہ کے قارئین: 9963
  • کل مشاہدات: 41448770

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں