دکھائیں کتب
  • 1 رسول اکرم ﷺ کی رضاعی مائیں (اتوار 09 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:973

    اسلام انسانیت کے عمومی مفاد کے لئے معاشرے کو اکٹھا رکھنے پر زور دیتا ہے۔ یہ والدین اور بچوں میں ایک مضبوط رشتہ قائم کرتا ہے۔ اسلام رشتوں کو حتیٰ کہ ان دودھ پلانے والی عورتوں تک بھی پھیلا دیتا ہے کہ جو شیر خوار بچوں کی خدمت کرتی ہیں۔ اگر حقیقی ماں کے علاوہ کوئی اور عورت کسی بچے کی پرورش کرے اور اسے دودھ پلائے تو وہ ایک اضافی ماں کا سا درجہ حاصل کر لیتی ہے جسے اُم رِداہ یا رضائی ماں یا دودھ پلانے والی ماں کہتے ہیں۔اس عورت کے شوہر کو بھی بچے کے باپ کے برابر سمجھا جاتا ہے۔جبکہ اس کے بچوں کو بھی اس بچے کے حقیقی بہن بھائیوں کی طرح سمجھا جاتا ہے اور اس کی ان میں سے کسی سے شادی نہیں ہو سکتی۔اس طرح، ایک عورت جس نے کسی بچے کے دو برس کے ہونے سے پہلے اسے کم از کم پانچ بار دودھ پلایا ہو، اسلامی قانون کے دئیے ہوئے خصوصی حقوق کے تحت، وہ اپنے دودھ کے رشتے سے اس بچے کی ماں بن جاتی ہے۔ دودھ پینے والا بچہ رضائی ماں کے دوسرے بچوں کا مکمل طور پر بہن یا بھائی سمجھا جاتا ہے، یعنی کہ ایسا لڑکا اپنی رضائی بہن اور ایسی لڑکی اپنے رضائی بھائی کی محرم ہوتی ہے۔ کوئی دوسرا مذہب کسی دودھ پلانے والی ماں کو ایسا رُتبہ نہیں دیتا۔جب آپ ﷺ ابھی شیر خوار تھے توعلاقے کی روایت کے مطابق، کھلے صحرائی ماحول میں نومولود بچوں کو لے جانے کے لئے خواتین کا ایک گروہ مکہ آیا۔قبیلہ بنو سعد کی حضرت حلیمہ سعدیہ، وہ خوش نصیب خاتون تھیں جنہوں نے رضائی ماں کے طور پر حضرت محمد ﷺوسلم کو گود لیا۔ اس وقت آپ ﷺ کی عمر صرف آٹھ روز تھی۔حضرت حلیمہ سعدیہ کےعلاوہ حضرت ثوبیہ نےآپ ﷺ کودودھ پلا یا جنہیں آپ ﷺ کی رضائی...

  • 2 رسول اکرمﷺ کی رضاعی مائیں (ہفتہ 27 جنوری 2018ء)

    مشاہدات:569

    رضاعت رضع سے بنا ہے رضاع یا رضاعۃ (پہلے حرف پر زیر ہو یا زبر دونوں صحیح ہے) بمعنی پستان چوسنا ہے لیکن فقہ میں شیر خوار اگر شیر خوارگی کی عمر میں کسی بھی محرم یا نا محرم عورت کا دودھ پیے یا وہ عورت اسے دودھ پلائے (یعنی ارضاع) دونوں کا عمل رضاعت کہلاتا ہے۔گویا کہ رضاعت ایک قدیم ترین فطری قانون ہے۔ نومولود کی ولادت کے ما بعد ہی اس قانون الہی کی کار فرمائی شروع ہو جاتی ہے۔ اس فطری عمل کو بالعموم تمام انسانی سماجوں میں فالِ نیک سمجھا جاتا ہے۔ماں کی رضاعت ایک مسلمہ حقیقت ہے، جس کے لئے کسی دوسری شہادت کی ضرورت نہیں۔ قرآن مجید کی متعدد آیاتِ کریمہ میں ماؤں کی صنف کے علاوہ خاص رضاعت کرنے والی خواتین کی صنف بھی بیان کی گئی ہے۔ اور تاریخ اور سیرۃ النبی ﷺ سے یہ بات ثابت ہے کہ :نبی کریم ﷺ نے اپنی والدہ کے علاوہ دو خواتین کا دودھ پیا ہے۔ایک ہیں : ثویبہ ، جو ابولہب کی لونڈی تھی ، اور دوسری ہیں ،سیدہ حلیمہ سعدیہ۔

    زیر تبصرہ کتاب ’’ رسول اکرمﷺ کی رضاعی مائیں‘‘ ڈاکٹر یٰسین مظہر صدیقی صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں نبی اکرمﷺ کی مختصر حالاتِ زندگی اور دو رضاعی ماؤں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔رضاعی ماؤں میں سے پہلے حضرت ثوبیہ کا تذکرہ کیا ہے۔پھرحضرت حلیمہ سعدیہ کا مفصل تذکرہ کیا ہے۔اللہ تعالیٰ کتاب ہذا کے مصنف ،ناشر کی   خدمات کوقبول فرمائے اور اسے عوام الناس کےنفع بخش بنائے۔ آمین۔ (رفیق الرحمن)

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 100
  • اس ہفتے کے قارئین: 2742
  • اس ماہ کے قارئین: 13054
  • کل مشاہدات: 41459342

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں