دکھائیں کتب
  • 1 آسان علوم قرآن (جمعہ 12 ستمبر 2014ء)

    مشاہدات:5204

    علوم القرآن  سے مراد وہ تمام علوم وفنون ہیں جو قرآن فہمی میں مدد دیتے ہیں  او رجن  کے ذریعے قرآن کو سمجھنا آسان ہوجاتا  ہے ۔ ان علوم میں وحی کی کیفیت ،نزولِ قرآن  کی ابتدا اور تکمیل ، جمع قرآن،تاریخ تدوین قرآن، شانِ نزول ،مکی ومدنی سورتوں کی پہچان ،ناسخ ومنسوخ ، علم قراءات ،محکم ومتشابہ آیات  وغیرہ  ،آعجاز القرآن ، علم تفسیر ،اور اصول  تفسیر  سب شامل ہیں ۔علومِ القرآن  کے مباحث  کی ابتدا عہد نبوی  اور دورِ صحابہ کرام سے  ہو چکی  تھی  تاہم  دوسرے اسلامی علوم کی طرح اس موضوع پربھی مدون کتب لکھنے کا رواج بہت بعد  میں ہوا۔زیر نظر کتاب’’آسان علوم قرآن‘‘ماہنامہ  محدث کے  معروف   کالم نگار  اور  کئی کتب کے مصنف  ومترجم محترم  مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی  تصنیف ہے۔جو بنیادی طور  پر اسلامیات اور علوم القرآن کےمبتدی  طالب علموں کے لیے  لکھی  گئی ہے  اور اس میں  مبتدی  حضرات او رخواتین کے لیے  ضروری معلومات موجود ہیں ۔اس  کی زبان  سادہ اور آسان ہے ۔انداز ِ بیان صاف،رواں اور عام فہم ہے ۔ اس  میں فنی اصطلاحات  کم سے  کم  استعمال کی گئی ہیں۔ کتاب کے  مصنف  محترم محمد رفیق چودہری ﷾ علمی ادبی حلقوں میں جانی پہچانی  شخصیت ہیں ۔ ان کو بفضلہٖ تعالیٰ عربی زبان وادب  اور علوم  قرآن سے  گہرا  شغف ہے  او ر طالبانِ علم  کو  مستفیض کرنے کے جذبے سےسرشار ہیں۔ قرآن  مجید  کا  لفظی  وبامحاورہ  ترجمہ  کرنے  کے علاوہ  ان دنوں  قرآن  مجید کی  تفسیر     لکھنے  میں  مصروف ہیں ۔اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے(آمین)  (م۔ا)

    ...
  • 2 ابن رشد سوانح عمری،علم کلام اور فلسفہ (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:13017
    ابن رشد کے تعارف کے لیے اس کی فقید المثال تصنیف ’بدایۃالمجتہد و نہایۃ المقتصد‘ ہی کافی ہے۔ لیکن ابن رشد کی دیگر تصنیفات کا جائزہ لیاجائے تواندازہ ہوتا ہے کہ اس نے فلسفہ، طب، فقہ و اصول فقہ، علم کلام، علم ہیئت، علم نحو الغرض کسی بھی علمی موضوع کو تشنہ نہیں چھوڑا اور ہر موضوع پر یادگار تصانیف چھوڑی ہیں۔ زیر نظر کتاب میں اسی شخصیت کی سوانح عمری کو قلمبند کیا گیا ہے۔ اس کے علم کلام ، ا س کے فلسفے، اس کے فلسفے پر ناقدانہ تبصرہ کرتے ہوئے یورپ میں اس کے فلسفہ کی اشاعت و تاریخ کا احوال بیان کیا گیا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف ابن رشد کے احوال و سوانح اور اس کے علوم و مسائل کے تذکرہ پر مشتمل ہے بلکہ اس میں مسلمانوں کے علم کلام اور علم فلسفہ کی تاریخ و تنقید بھی ہے۔ نیز اس میں اسلامی علوم و فنون کی ترقی واشاعت کے واقعات کی پوری تشریح بھی ہے۔ اس کتاب سے یہ بھی معلوم ہوگا کہ ابن رشد صرف فلسفی نہ تھا بلکہ ایک نقاد و متکلم اور ایک نکتہ سنج فقیہ بھی تھا۔ (عین۔ م)

  • 3 اردو عربی کے لسانی رشتے (پیر 10 فروری 2014ء)

    مشاہدات:15549

    جس طرح انسان ابتدا ہی سے اپنے گرد پھیلی ہوئی کائنات پر غور و فکر کر رہا ہے، اسی طرح اس کے اندر پھیلی ہوئی کائنات بھی اس کی توجہ کا مرکز ہے۔ جس کے عجائبات گوناگوں اور اسرار لامتناہی ہیں۔ زبان بھی انھی اسرار میں سے ایک ہے۔ جو انسانی شخصیت میں مظہر کی حیثیت رکھتی ہے۔ پیش نظر کتاب میں جامعہ کراچی میں شعبہ عربی کے پروفیسر ڈاکٹر احسان الحق صاحب نے اردو اور عربی زبان کے تعلق کی نسبت سے نہایت قیمتی ابحاث پیش کی ہیں۔ مصنف نے ایک باب میں اردو زبان کے ماخذ پر تبصرہ کرتے ہوئے دیگر ابواب میں عربی زبان کا تعارف، اردو عربی کے روابط اور اردو عربی حروف و حرکات کے اشتراک پر علمی پیرائے میں گفتگو کی ہے۔ کتاب کے آخری ابواب اردو عربی صوتیات، قواعد اور ذخیرہ الفاظ پر مشتمل ہیں۔ یقیناً یہ کتاب اہل ذوق کے لیے ایک قیمتی تحفہ ہے۔ (عین۔ م)
     

  • 4 اسرائیل کا نبی یا جہان کا منجی (جمعہ 08 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:555

    اللہ ذو الجلال کی اس کائنات میں کئی رنگوں ،کئی نسلوں، کئی خصلتوں کے حامل انسان پائے جاتے ہیں۔ اس کائنات میں انسان کو پیدا کرنے کا مقصدعبادتِ خدا وندی ہے اور یہ دنیا انسانوں کے لئے دارالامتحان اور آزمائش کا گھر ہے۔انسانوں کی ہدایت، ان کی دنیاوی فوز و فلاح اور آخرت کی نجات و سعادت کے لئے انبیاء کرام ﷩ کا سلسلہ جاری فرمایا گیا۔ جہاں تک نصرانیت کا تعلق ہے تو وہ بھی بنیادی طور پر وہی دین ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اور رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا، نصرانیت بھی اصولی طور پر توحید ہی کی دعوت ہے جس کی طرف تمام انبیاء و رسل نے اپنی امتوں کو دعوت دی تھی، البتہ نصرانیوں نے اللہ کے دین میں تبدیلی اور تحریف کردی، چنانچہ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلیا، اور اس کی طرف بیوی اور بچہ منسوب کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے قول سے بلند و بالا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’اِ سرائیل کا نبی یا جہاں کا مُنجی ؟‘‘ پادری برکت اللہ ایم ۔ اے کی ہے ۔ جس میں مسیحیت کی بے بنیاد باتوں کا دلائل کے ساتھ رد کیا گیا ہے ۔مزید اس مختصر رسالہ میں کلمۃ اللہ کے مذکورہ بالا کلمات طیبات پر غور و خوض کیا گیا ہے کہ آیا مخالفین کے اعتراضات صحیح اور حق بجانب ہیں کہ نہیں؟ اور کلمۃ اللہ کے حواٰرئین اور مبلغین کےاقوال و افعال و ہدایت پر اور کلیسائے جامع کے لائحہ عمل اور کارناموں پر ایک مختصر نظر ڈال کر مندرجہ بالا اعتراض کی صحت کو جانچا گیا ہے اور ان کی روشنی میں ابن اللہ کے ہر دو اقوال کی صحیح تفسیر کو سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ ہم دعا مصنف کے لئ...

  • 5 اسلام اور نصرانیت (جمعہ 03 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:811

    اسلام دین توحید ہے، اللہ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دین کے ساتھہ مبعوث فرمایا، اور دونوں مخلوقات (جن و انس) پر اس میں داخل ہونا فرض قرار دیا، ارشاد فرمایا: ﴿ وَمَن يَبْتَغِ غَيْرَ الْإِسْلَامِ دِينًا فَلَن يُقْبَلَ مِنْهُ وَهُوَ فِي الْآخِرَةِ مِنَ الْخَاسِرِينَ ﴿٨٥﴾...آل عمران اور جو شخص اسلام کے سوا کسی اور دین کا طالب ہوگا وہ اس سے ہرگز قبول نہیں کیا جائے گا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانے والوں میں ہوگا۔جہاں تک نصرانیت کا تعلق ہے تو وہ بھی بنیادی طور پر وہی دین ہے جس کے ساتھ اللہ نے اپنے نبی اور رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تھا، نصرانیت بھی اصولی طور پر توحید ہی کی دعوت ہے جس کی طرف تمام انبیاء و رسل نے اپنی امتوں کو دعوت دی تھی، البتہ نصرانیوں نے اللہ کے دین میں تبدیلی اور تحریف کردی، چنانچہ انہوں نے اللہ کے ساتھ دوسروں کو شریک کرلیا، اور اس کی طرف بیوی اور بچہ منسوب کیا، جبکہ اللہ تعالیٰ ان ظالموں کے قول سے بلند و بالا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب ’’ اسلام اور نصرانیت‘‘استاذ العلماء،شیخ الحدیث و والتفسیر حضرت مولانا محمد ادریس صاحب کاندھلوی 1900ءمیں کاندھلہ میں پیدا ہو ئے اور 26 /جولائی 1974ء کو لاہور میں واصل الی الحق ہو ئے ۔ مصنف قربیی دورکے ان نامورمستند علماء میں شامل ہیں جن کے تلامذہ اور جن کی تصانیف آج بھی مشعل ِراہ ہیں۔ اور آپ حضرت علامہ انور شاہ کشمیری اور دوسرے اکابر علماء کے تلمیذ خاص تھے۔ انکی یہ کتاب سات کتابوں کا مجموعہ ہے۔کاندھلوی صاحب نے اپنی اس کتاب میں اسلام اور عیسائیت نیز مرزائیت سے م...

  • 6 الفاروق (اتوار 09 فروری 2014ء)

    مشاہدات:22601
    حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے سوانح اور حالات تفصیل کےساتھ اور اس صحت کے ساتھ لکھے جاچکے جو تاریخی تصنیف کی صحت کی اخیری حد ہے دنیا میں اور جس قدر بڑے بڑے  نامور گزرےہیں ان کی مفصل سوانح عمریاں پہلےسے موجود ہیں ۔اب آپ خود اس بات کا اندازہ لگالیں کہ تمام دنیا میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کا کوئی ہم پایہ گزرا ہے یا نہیں ۔؟
    ’الفاروق ‘ جس میں حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی ولادت سے وفات تک واقعات اور فتوحات ملکی کےحالات درج ہیں ،اس کے ساتھ ساتھ ملکی اور مذہبی انتظامات  اور علمی کمالات اور ذاتی اخلاق اور عادات کی تفصیل  بھی بیان کی گئی ہے ۔
    اس کتاب کی صحت میں کوئی کم کوشش نہیں کی گئی بحرحال کتاب کے آخر میں ایک غلط نامہ لگادیا گیا ہے جو کفارہ جرم کا کام دے سکتا ہے ۔


  • 7 المحلی (بدھ 27 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2577

    زیر تبصرہ کتاب"المحلی"پانچویں صدی ہجری کے مسلمہ مجتہد امام ابن حزم اندلسی ﷫کی شہرہ آفاق تصنیف ہے،جسے علماء محققین عموما اور شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ﷫ اور امام ابن قیم ﷫جیسے اساطین علم وتحقیق خصوصا بڑی اہمیت دیتے ہیں۔یہ کتاب عبادات کے علاوہ زندگی کے تمام اہم معاملات پر حاوی،تقریبا اڑھائی ہزار مسائل واحکام پر مشتمل ہے۔عصر حاضر کے عربی ومصری اہل علم نے عصری مسائل کی تحقیق میں اس سے خوب خوب استفادہ کیا ہے۔جس دور میں امام ابن حزم﷫ نے یہ کتاب تصنیف فرمائی ،اس زمانے میں اندلس میں فقہ مالکی کا دور دورہ تھااور مالکی فقہاء پر تقلید جامد ایسی چھائی ہوئی تھی کہ اس کے مقابلے میں نصوص صحیحہ وصریحہ سے بھی بے اعتنائی عام تھی اور اس کی بنیاد بھی زیادہ تر" قیاس "پر ہوتی تھی۔ایسے ماحول میں امام ابن حزم ﷫نے یہ کتاب تالیف فرمائی جس میں ہر مسئلے کی بنیاد قرآن وحدیث اور وضاحتی آثار پر رکھی،اور چونکہ فقہاء میں "قیاس" کے حوالے سے غلو پایا جاتا تھااس وجہ سے قدرتی طور پر تقلید پر تنقید بھی شدید کیاور قیاس کے سلسلے میں امام داود ظاہری﷫ کے مسلک کو اپنایا جو ان معنوں میں قیاس کو نہیں مانتے تھے ،جو اہل تقلید کا مبنی تھا۔خطا ونسیان ،انسانیت کا خاصا ہے۔امام موصوف﷫ نے اگرچہ ہر مقام پر اہل تقلید کی موشگافیوں کے مقابلے میں نصوص کی برتری کو ملحوظ رکھا ہے ،تاہم بعض مقامات پر "ظاہریت محضہ "کے باعث شذوذ اور تفرد کا بھی شکار ہو گئے ہیں۔اور اہل باطل بسااوقات ان شذوذات سے غلط استدلال کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔بہر حال ان کی یہ اجتہادی غلطیاں بموجب فرمان نبوی قابل عفو ہیں،بلکہ ایک ا...

  • 8 تجدید ایمان (بدھ 10 دسمبر 2008ء)

    مشاہدات:11562
    حدیث جبریل میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان اور اسلام میں فرق بتایا ہے لیکن تمام قسم کی فروعی بحثوں کو ایک طرف رکھنے ہوئے عقائد کی اصلاح ایک لازمی جز ہے کیونکہ اللہ کے ہاں عقیدے کی لغزش ناقابل معافی جرم ہے اسی لیے عقیدے کی خرابی سے شرک پیدا ہوتا اور اللہ کے ہاں بندہ بغیر توبہ کے شرک کا گناہ لیے آ گیا تو اس پر اللہ نے جنت کو حرام قرار دے دیا ہے-اس لیے عقیدہ توحید ایک لازمی امر ہے جس کو فاضل مصنف نے انتہائی بلیغ اور واضح انداز سے بیان کیا ہے تاکہ کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ رہ جائے-عقیدے کی اصلاح کے لیے انبیاء کی موت وحیات کا مسئلہ، اولیاء کی تکریم میں مبالغہ کرتے ہوئے ان سے استعانت کا پہلو اختیار کرنا ، عقیدے کو خراب کرنے والی موضوع اور من گھڑت قسم کی روایات کی وضاحت کرتے ہوئے مشرکین مکہ کے شرک کی کیفیت اور بعد کے مشرکین کی وضاحت،وسیلہ کی حقیقت اور غیر اللہ سے مسائل کا حل تلاش کرنا،انبیاء وغیرہم کے بارے میں نور وبشر کے مسئلے کی وضاحت،مسئلہ علم غیب کی وضاحت اور اختیارات کس کے پاس ہیں ان تمام چیزوں کرتے ہوئے آخر میں سنت کی اہمیت کو بیان کر کے لوگوں کو قرآن وسنت پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی ہے تاکہ مسلمان اپنے زندگی کا ہر معاملہ قرآن وسنت کی روشنی میں حل کرے-اور قرآن وسنت کے متعلق پائے جانے والے مختلف شبہات کا مدلل رد بھی کیا ہے-مثال کے طور پر جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ احادیث عجمی سازش ہیں یا یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں نہیں لکھی گئیں بلکہ بعدکی پیداوار ہیں تو ایسے تمام گھٹیا اعتراضات کا مدلل محاکمہ کیا گیا  ہے۔

    محدث کتب لائبریری  تقابل ادیان  عیسائیت  تمام کتب  اسلام اور سائنس 
  • 9 تحقیق کا فن (بدھ 08 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:4366

    تحقیق عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں کسی چیز کی اصلیت وحقیقت معلوم کرنے کے لئے چھان بین اور تفتیش کرنا۔اصطلاحا تحقیق کا مطلب ہے  کہ کسی منتخب موضوع کے متعلق چھان بین کر کے کھرے کھوٹے اور اصلی ونقلی مواد میں امتیاز کرنا،پھر تحقیقی قواعد وضوابط کے مطابق اسے استعمال میں لانا اور اس سے نتائج اخذ کرنا ۔ایسا تحقیقی کام سندی تحقیق میں کیا جاتا ہے ،جو ہر مقالہ کی آخری منزل ہوتی ہے۔ترقی یافتہ علمی دنیا میں تحقیقی مقالہ لکھنے یا "رسمیات تحقیق" کو سائنٹیفک اور معیاری بنانے کا کام اور اس پر عمل کا آغاز اٹھارویں صدی ہی میں شروع ہوچکا تھا- چنانچہ حواشی و کتابیات کے معیاری اصول اور اشاریہ سازی کا اہتمام مغربی زبانوں میں لکھی جانے والی کتابوں میں اسی عرصے میں نظر آنے لگا تھا۔۔لیکن افسوس کہ آج تک اردو میں تحقیق کی رسمیات متفقہ طور پر نہ طے ہو سکیں۔ نہ ان کے بارے میں سوچا گیا اور نہ ہی کوئی مناسب پیش رفت ہوسکی۔ چنانچہ ایک ہی جامعہ میں، بلکہ اس جامعہ کے ایک ہی شعبے میں لکھے جانے والے مقالات باہم ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔ کسی ایک مقالے میں حواشی کسی طرح لکھے جاتے ہیں اور کتابیات کسی طرح مرتب کی جاتی ہے۔ دوسرے مقالے میں ان کے لکھنے اور مرتب کرنے کے اصول مختلف ہوسکتے ہیں۔ زیر تبصرہ کتاب " تحقیق کا فن "اسی جانب ایک سنگ میل ہےجو ڈاکٹر گیان چند صاحب کی وہ قابل قدر تصنیف ہے جس میں انہوں نے فن تحقیق کو موضوع بحث بنایا ہے۔یہ کتاب نہ صرف ان کی زندگی کے علمی وتحقیقی تجربوں اور وسیع وگہرے مطالعے کا نچوڑ ہے بلکہ اس میں فن تحقیق کے وہ سارے پہلو آ گئے ہیں جو ت...

  • 10 تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت (پیر 06 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:3195

    اردو میں مستعمل لفظ ”تعویذ“ کا عربی نام ”التمیمة“ ہے۔ عربی زبان میں ”التمیمة‘ کے معنی اس دھاگے، تار ، یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسی اور حصے میں باندھا جائے۔اور شریعت اسلامیہ نے  ہر طرح کے تعویذات  کے استعمال سے مطلقا منع فرمایا ہے۔لیکن افسوس کہ آج کے بہت سارے مسلمان ان شرکیہ اور حرام کاموں میں مبتلاء ہیں،اور ان میں مختلف ناموں سے کثرت سے تعویذوں کا رواج پایا جاتا ہے۔مثلا بچوں کو  جنوں وشیاطین اورنظر بد وغیرہ سے حفاظت کے لیے، میاں بیوی میں محبت کے لیے ، اسی طرح اونٹوں، گھوڑوں، اور دیگر جانوروں پر نظر بدوغیرہ سے حفاظت کے لیے، اپنی گاڑیوں کے آگے یا پیچھے جوتے یا چپل، آئینوں پر بعض دھاگے اور گنڈے لٹکاتے ہیں، اسی طرح بعض مسلمان اپنے گھروں اور دوکانوں کے دروازوں پر گھوڑے کے نعل وغیرہ لٹکاتے ہیں، یا مکانوں پر کالے کپڑے لہراتے ہیں۔اسی طرح بعض لوگ بالخصوص عورتیں نظر بد وغیرہ سے بچاوٴ کے لیے بچوں کے تکیے کے نیچے چھری ،لوہا، ہرن کی کھال ، خرگوش کی کھال، اور تعویذیں وغیرہ رکھتی ہیں یا دیواروں پر لٹکاتی ہیں، یہ ساری چیزیں زمانہ جاہلیت کی ہیں، جن سے اجتناب کرنا بے حد ضروری ہے۔سلف صالحین، حضرات صحابہ وتابعین ، ائمہ و محدثین کرام اور دیگر اہل علم کی رائے کے مطابق یہی بات راجح اور صحیح بھی ہے کہ تعویذ خواہ قرآنی ہو یا غیر قرآنی اس کا لٹکانا حرام ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب"تعویذ اور دم کی شرعی حیثیت"محترم رانا ڈاکٹر محمد اسحاق صاحب کی تصنیف ہے۔جس میں انہوں نے  تعویذ گنڈے کی حقیقت،تعویذ گنڈے کے مفاسد ،مشروع طریقہ علاج اور مسنون اذکار وادعیہ جیسی مباحث کو...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 207
  • اس ہفتے کے قارئین: 3656
  • اس ماہ کے قارئین: 10519
  • کل مشاہدات: 41450746

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں