دکھائیں کتب
  • سورۃ الحجرات قرآن مجید کی 49 ویں سورت جو حضرت محمد ﷺ کی مدنی زندگی میں نازل ہوئی۔ اس سورت میں 2 رکوع اور 18 آیات ہیں۔سورۃ الحجرات کےمضامین اورتفاسیر بالماثور کےمطالعہ سے پتہ چلتاہے کہ سورۃ الحجرات ایک ہی دفعہ نازل نہیں کی گئی بلکہ حسب ضرورت اس کانزول کئی حصوں او رمختلف اوقات میں ہوا اس سورت کااجمالی موضوع اہل ایمان اورمسلمانوں کے ان امور کی اصلاح ہے جن کا تعلق ان کے باہمی معاملات او رمجمتع اسلامی سے ہوتاہے۔ ابتدائی پانچ آیتوں میں ان کو وہ ادب سکھایا گیا ہے جو انہیں اللہ اور اس کے رسول کے معاملے میں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ پھر یہ ہدایت دی گئی ہے کہ ہر خبر پر یقین کر لینا اور اس پر کوئی کارروائی کر گزرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر کسی شخص یا گروہ یا قوم کے خلاف کوئی اطلاع ملے تو غور سے دیکھنا چاہیے کہ خبر ملنے کا ذریعہ قابل اعتماد ہے یا نہیں۔ قابل اعتماد نہ ہو تو اس پر کارروائی کرنے سے پہلے تحقیق کر لینا چاہیے کہ خبرصحیح ہے یا نہیں۔ اس کے بعد بتایا گیا ہے کہ اگر کسی وقت مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو اس صورت میں دوسرے مسلمانوں کو کیا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے۔ پھر مسلمانوں کو ان برائیوں سے بچنے کی تاکید کی گئی ہے جو اجتماعی زندگی میں فساد برپا کرتی ہیں اور جن کی وجہ سے آپس کے تعلقات خراب ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کا مذاق اڑانا، ایک دوسرے پر طعن کرنا، ایک دوسرے کے برے برے نام رکھنا، بد گمانیاں کرنا، دوسرے کے حالات کی کھوج کرید کرنا، لوگوں کو پیٹھ پیچھے ان کی برائیاں کرنا، یہ وہ افعال ہیں جو بجائے خود بھی گناہ ہیں اور معاشرے میں بگاڑ بھی پیدا کرتےہیں۔ اللہ تعالیٰ...

  • 2 الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف (بدھ 28 جون 2017ء)

    مشاہدات:1334

    سورۃ یوسف قرآن مجید کی 12 ویں سورت جس میں حضرت یوسف کا قصہ بیان کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺکی مکی زندگی کے آخری دور میں یہ سورت نازل ہوئی۔سورہ یوسف قرآن مجید کی وہ واحد سورہ ہے جو اپنے اسلوب بیاں، ترتیب بیاں اور حسن بیاں میں باقی سے منفرد اور نمایاں ہے۔ پوری سورہ مبارکہ کا مضمون سیدنا یوسف کی سیرت کے نہایت اجلے پہلو، عفت و عصمت اور پاکیزہ سیرت و کردار پر مشتمل ہے۔ زیر تبصرہ کتاب’’ الجمال والکمال تفسیر سورہ یوسف‘‘ برصغیر پاک وہند کے معروف سیرت نگار قاضی محمد سلیمان سلمان منصورپوری ﷫ کی تصنیف ہے ۔قاضی صاحب نے جون 1921 ء کو سفر حج کیا اور اگست تک مکہ مکرمہ میں ہی قیام پذیز رہے ۔قاضی صاحب نے وہی سورۂ یوسف کی تفسیر لکھنے کا آغاز کیا 22 اگست 1921ء کو تقریبا دو مہینے میں اس سورہ کی تفسیرمکمل کرلی تھی۔خاتمۂ تفسیر کے دس بارہ صفحے انہوں نے واپسی کے وقت جہازمیں لکھے اور آخر کے بارہ چودہ صفحات ان مشاہیر کے مختصر حالات پر مشتمل ہیں جن کا ذکر تفسیر میں کیاگیا ہے ۔قاضی صاحب نے اس تفسیر میں مصر کی پوری تاریخ، وہاں کے دریاؤں ، نہروں ، تصنیف کے زمانے تک کےاخباروں ،پہاڑوں ، اہرام مصر ، اہم شخصیتوں کا ذکر کیا ہے¬۔ اور وہاں کی مختلف حکومتوں اور حکمرانوں کا تذکرہ بالترتیب کیا ہے ۔تفسیر کی زبان اور انداز بیان نہایت عمدہ ہے ۔ اس تفسیر کے مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ اگر قاضی صاحب پورے قرآن مجید کی تفسیر لکھتے توایک جید سیر ت نگار ہونے کے ساتھ بہت بڑے مفسربھی ہوتے ۔قاضی صاحب نے دوسرے حج بیت اللہ سے بذریعہ بحری جہاز واپس آتے ہوئے 30 مئی 1930ء کو جہاز میں...

  • 3 الفرقان ( پارہ عم 30 ) (منگل 18 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:928

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار...

  • 4 الفرقان ( سورہ البقرہ ) (بدھ 19 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:778

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار...

  • 5 الفرقان سورۃ آل عمران و سورۃ الحجرات (جمعرات 20 اپریل 2017ء)

    مشاہدات:731

    قرآن مجید اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آخری کتابِ ہدایت ہےاور یہ کتاب اس قدر جامع اور مکمل ہے کہ یہ قیامت تک کے لیے آنے والی انسانی نسلوں کی رشد وہدایت کے لیے کافی ہے ۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوں گے اور نہ ہی کبھی علماء اس کے علوم سے سیر ہوں گے چنانچہ قرآن مجید کو آپ جس پہلو سے بھی دیکھیں یہ آپ کو عدیم النظیر ہی نظر آئے گا۔ مختلف ادوار میں مختلف فکری ،علمی اور تحقیقی صلاحیتوں کےحامل لوگوں نے اپنی اپنی کوششیں قرآن کریم کی شرح وتوضیح کے میدان میں صرف کی ہیں۔لیکن قریبا ہر ایک نے اپنی کم مائیگی کا اعتراف کیا اور کہا کہ وہ اس بحر ذخار سے چند موتی ہی نکال سکا ہے۔قرآن مجید کے معجزاتی پہلوؤں میں ایک پہلو یہ ہے کہ ہر دور کی ضروریات اور تقاضوں کے مطابق مختلف اسالیب اور پیرایوں میں اس کی تفاسیر،ترجمہ ،معانی ،تفہیم، وتسہیل کا اور تدریس وتعلیم کے لیے علوم آلیہ وغیرہ کی مدد سے اس پر نصاب سازی کا کام ہوتا رہاہے۔ اور یہ مبارک سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ خوش بخت اور عالی قدر ہیں وہ نفوس جنہیں اس خدمتِ عالیہ میں حظ اٹھانے کا موقع ملا۔ عصر حاضر میں قرآن مقدس کو عام فہم انداز میں لوگوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے خانوں میں ترجمے ،رنگوں اورعلامات کے ذریعے ترجمہ پیش کرنے نیز اس کےفہم میں مزید دل چسپی پیدا کرنے کےلیے عربی زبان اور اس کےقواعد پر مشتمل نصاب سازی کےاسالیب اپنائے جارہے ہیں ۔اس سلسلے میں کئی اہل علم نے تعلیم وتدریس اور تصنیف کےذریعے کو ششیں اور کاوشیں کیں۔فہم قرآن کے سلسلے میں الہدیٰ انٹرنیشنل،ڈاکٹر اسرار، قرآن انسٹی ٹیوٹ،اسلامک انسٹی ٹیوٹ،لاہور ،دارالفلاح ،لاہور، دار...

  • 6 ام الکتاب تفسیر سورہ فاتحہ (ہفتہ 28 مئی 2016ء)

    مشاہدات:1954

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں۔ برصغیرِ میں علوم اسلامیہ کی نصرت واشاعت،قرآن کی تفہیم وتفسیر کےسلسلے میں علمائے برصغیر نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ام الکتاب تفسیر سورۃ فاتحہ‘‘ امام الہند مفسر وادیب مولانا ابو الکلام کی تصنیف ہے جو سوۃ فاتحہ کی تفسیر پر مشتمل ہے سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔مولانا آزاد نے قرآں مجید کی مکمل تفسیر’’ ترجمان القرآن ‘‘ کے نام سے بھی کی ہے یہ تفسیر جدید تفسیری ادب میں ایک ممتاز رکھتی ہے ۔(م۔ا)

  • 7 تفسیر الفاتحہ (محمد بن عبد الوہاب) (پیر 09 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:486

    اللہ رب العزت نے ہر اُمت کی رہنمائی کے لیے ہر دور کی ضرورت کے مطابق انبیاء کا سلسلہ قائم کیا جس کی آخری کڑی جناب محمد رسول اللہﷺ ہیں اور ہمارے نبیﷺ کو اللہ رب العزت نے ایک اعلیٰ وارفع شریعت دی اور عظیم کتاب بھی دی جسے ہم قرآن مجید کے نام سے جانتے ہیں ۔ قرآن مجید کی پہلی سورت ’سورۃ الفاتحہ‘‘ ہے یہ وہ عظیم سورہ ہے جسے ’’ام القرآن‘‘ اور اساس القرآن بھی کہتے ہیں۔سات آیات پر مشتمل ہے اور اسے نبیﷺ نے ’سبع المثانی‘‘ کا مصداق بھی قرار دیا ہے۔ اس سورہ کی بہت سی تفسیریں لکھی گئی ہیں اور ہر صاحب علم نے اپنی بساط کے مطابق اس کے مطالب ومفاہیم کو سمجھا اور بیان کیا ہے۔ لیکن زیرِ تبصرہ کتاب’’تفسیر سورۃ الفاتحہ‘‘ مولانا محمد بن عبد الوہاب کی تفسیر کو ایک خصوصی اور امتیازی مقام حاصل ہے۔ یہ کتاب اصلاً عربی زبان میں ہے اور اس کا ترجمہ کرتے ہوئے علامہ حکیم محمد جمیل شیدا رحمانی﷾ نے بڑی لطافت اور نزاکت سے اردو کے قالب میں ڈھالا ہے۔ اور یہ ایسی تفسیر ہے کہ جو نہ تو طویل اور اکتا دینے والی ہے اور نہ مختصر اور اُلجھے معنوں والی ہے۔ اور عوام الناس کے فہم سے بالا بھی نہیں یعنی ہر خواص وعلماء کے مطلوب مقصود سے قاصر وکوتاہ بھی نہیں ہے۔ اور شیخ نے ایسی تفسیر لکھی ہے کہ جو بندے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان مناجات وسرگوشی کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ کتاب مولانا محمد بن عبد الوہاب کی مایۂ ناز تصنیف ہے آپ  1115ھ میں پیدا ہوئے اور 1153ھ میں وفات پائی۔ آپ نے ذخیم تعداد میں تالیفات کیں جن میں سے کتاب التوحی...

  • 8 تفسیر سورہ فاتحہ (بدھ 02 ستمبر 2015ء)

    مشاہدات:2503

    سورۂ فاتحہ قرآن مجید کی پہلی اور مضامین کے اعتبار سے جامع ترین سورۃ ہے جو پورے قرآن مجید کا مقدمہ ،تمہید اور خلاصہ ہے ۔ اس سورت کی عربی اور اردو میں کئی ایک تفسیریں الگ سے شائع ہوچکی ہیں۔ زیر تبصرہ تفسیر سورۂ فاتحہ مفسر قرآن حافظ صلاح الدین یوسف﷾ کی اس سورت کی تفصیلی تفسیر ہے ۔ حافظ صاحب کی مرقوم جامع اور مختصر تفسیر ’’احسن البیان‘‘ کے قبول عام پر   حافظ صاحب کے مقربین نے محسوس کیا کہ انہیں قرآن مجید کی ایک تفصیلی تفسیر بھی لکھنی چاہیے تو حافظ صاحب نے سورۂ فاتحہ کے بعد سورۂ بقرہ کی تفسیر شروع کی ہی تھی کہ یہ کام دیگر علمی مصروفیات کے باعث رک گیا۔اللہ تعالیٰ حافظ صاحب کواسے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کی توفیق واسباب عنایت کردے ۔(آمین)حافظ   صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے تفسیر ی نکات صحیح احادیث کی روشنی میں شرح وبسط کےساتھ بیان کیے ہیں۔ ان کا استدلال بہت دلنشیں ہے ۔یہ تفسیر اس تفسیر سورۃ الفاتحہ سے الگ ایک نئی تفسیر ہے جو تفسیر’’ احسن البیان ‘‘ میں شامل ہے یہ تفسیرخاص وعام بالخصوص طلبہ ،علماء اور واعظین کےلیے   بے حد مفید ہے (م۔ا)

  • 9 تفسیر سورہ فاتحہ ( رفیق چوہدری ) (منگل 20 جون 2017ء)

    مشاہدات:711

    قرآن مجید پوری انسانیت کے لیے کتاب ِہدایت ہے، او ر اسے یہ اعزاز حاصل ہےکہ دنیا بھرمیں سب سے زیاد ہ پڑھی جانے والی کتاب ہے ۔ اسے پڑھنے اور پڑھانے والوں کو امامِ کائنات نے اپنی زبانِ صادقہ سے معاشرے کے بہتر ین لوگ قراردیا ہے اور اس کی تلاوت کرنے پر اللہ تعالیٰ ایک ایک حرف پرثواب عنایت کرتے ہیں۔ دور ِصحابہ سے لے کر دورِ حاضر تک بے شمار اہل علم نے اس کی تفہیم وتشریح اور ترجمہ وتفسیرکرنے کی خدمات سر انجام دیں اور ائمہ محدثین نے کتب احادیث میں باقاعدہ ابواب التفسیر کے نام سےباب قائم کیے ہیں۔ برصغیرِ میں علوم اسلامیہ کی نصرت واشاعت،قرآن کی تفہیم وتفسیر کےسلسلے میں علمائے برصغیر نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں ۔ زیر نظر کتاب ’’تفسیر سورۃ فاتحہ ‘‘ماہنامہ محدث کے معروف کالم نگار اور کئی کتب کے مصنف ومترجم محترم مولانا محمد رفیق چودھری ﷾ کی تصنیف ہے۔اس میں انہوں نے سورۃ فاتحہ کی تفسیر سے قبل بسم اللہ الرحمٰن الرحیم کی تفسیر،سورۃ فاتحہ کا تعارف ، مرکزی مضمون کو بھی آسان انداز میں پیش کیا ہے ۔سورۃ فاتحہ کی تفسیر کرتے ہوئے الفاظ کی تحقیق ، نظائر وشواہد کو تحریرکیا ہے ۔مو صوف کتاب ہذا کے علاوہ کئی دینی کتب کے مصنف ومترجم ہیں جن میں قرآن کریم کا اردو وانگلش ترجمہ اور تفسیر البلاغ بھی شامل ہے ۔ اللہ تعالیٰ ان کی تدریسی وتعلیمی اور تحقیقی وتصنیفی خدمات کو قبول فر ما ئے(آمین) (م۔ ا)

  • 10 تفسیر سورۃ الفاتحہ (العثیمین) (بدھ 22 فروری 2017ء)

    مشاہدات:1029

    سورۂ فاتحہ کو الفاتحہ اس لیے کہا جاتاہے کہ اس کے ساتھ قرآن کا آغاز ہوتا ہے اور یہ سورۃ سب سے پہلے نازل ہونے والی کامل سورت ہے۔ اس سورت کے بارے میں علماء کرام فرماتے ہیں کہ: کہ مکمل قرآن کریم کےمجمل معانی کوشامل ہے جس میں توحید، احکام ،جزاء اور بنی آدم کےاختیار کردہ راستوں وغیرہ کا ذکر ہے اسی لیےاسے ’’ام القرآن‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس سورت کے بہت سے امتیازات ہیں جن کی وجہ سے یہ دوسری سورتوں سے ممتاز ہے۔ نماز کے مختلف فیہ مسا ئل میں سے ایک مسئلہ فاتحہ خلف الامام کا ہے کہ امام کے پیچھے مقتدی سورۃ الفاتحہ پڑھے گا یا نہیں پڑھے گا۔ ہمارے علم کے مطابق فرض نفل سمیت ہر نماز کی ہر رکعت میں سورۃ الفاتحہ پڑھنا فرض اور واجب ہے، نمازی خواہ منفرد ہو،امام ہو یا مقتدی ہو۔کیونکہ سورۃ الفاتحہ نماز کے ارکان میں سے ایک رکن ہے اور اس کے بغیر نماز نامکمل رہتی ہے۔نبی کریم ﷺ نے فرمایا: اس شخص کی کوئی نماز نہیں جس نے اس میں فاتحۃ الکتاب نہیں پڑھی۔دوسری جگہ فرمایا: “جس نے أم القرآن (یعنی سورۃ الفاتحہ)پڑھے بغیرنماز ادا کی تو وہ نماز ناقص ہے، ناقص ہے، ناقص ہے، نا مکمل ہے۔ یہ احادیث اور اس معنیٰ پر دلالت کرنے والی دیگر متعدد احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا واجب اور ضروری ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تفسیر سورۃ الفاتحۃ‘‘ سعودی عرب کی مایہ ناز دو شخصیات فضیلۃ الشیخ محمد بن صالح العثیمین﷫ فضیلۃ الشیخ صالح بن فوزان الفوزان﷾ کی سورۃ الفاتحہ کی تفسیر وفوائد پر مشتمل ہے۔ جناب طارق علی بروہی نے اسے اردو دان حضرات کے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 214
  • اس ہفتے کے قارئین: 3663
  • اس ماہ کے قارئین: 10526
  • کل مشاہدات: 41450767

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں