دکھائیں کتب
  • 1 الدرر البہیہ (جمعہ 24 جولائی 2015ء)

    مشاہدات:1819

    جب کوئی معاشرہ مذہب کو اپنے قانون کا ماخذ بنا لیتا ہے تو اس کے نتیجے میں علم فقہ وجود پذیر ہوتا ہے۔ علم فقہ، دین کے بنیادی ماخذوں سے حاصل شدہ قوانین کے ذخیرے کا نام ہے۔ چونکہ دین اسلام میں قانون کا ماخذ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کی سنت ہے اس وجہ سے تمام قوانین انہی سے اخذ کیے جاتے ہیں۔ جب قرآن و سنت کی بنیاد پر قانون سازی کا عمل شروع کیا جائے تو اس کے نتیجے میں متعدد سوالات پیدا ہو جاتے ہیں۔قرآن مجید کو کیسے سمجھا جائے؟قرآن مجید کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کو سمجھنے کے لئے کس کس چیز کی ضرورت ہے؟ سنت کہاں سے اخذ کی جائے گی؟ قرآن اور سنت کا باہمی تعلق کیا ہے؟ قرآن مجید، سنت اور حدیث میں سے کس ماخذ کو دین کا بنیادی اور کس ماخذ کو ثانوی ماخذ قرار دیا جائے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی احادیث کو کیسے سمجھا جائے گا اور ان سے سنت کو کیسے اخذ کیا جائے گا؟ اگر قرآن مجید کی کسی آیت اور کسی حدیث میں بظاہر کوئی اختلاف نظر آئے یا دو احادیث میں ایک دوسرے سے بظاہر اختلاف نظر آئے تو اس اختلاف کو دور کرنے کے لئے کیا طریقہ اختیار کیا جائے گا؟ ان سوالوں کا جواب دینے کے لئے جو فن وجود پذیر ہوتا ہے، اسے اصول فقہ کہا جاتا ہے۔اور اس علم کے نتیجے میں جو فروعیات سامنے آتی ہیں انہیں فقہ کہا جاتا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب" ترجمہ الدرر البھیہ " بارہویں صدی ہجری کے معروف عالم دین،مجتہد اور فقیہ امام محمد بن علی بن محمد الشوکانی ﷫کی عربی تصنیف ہے ،جس کا اردو ترجمہ محترم عبید اللہ عبید صاحب نے کیا ہے۔یہ فقہ کے مسائل پر مشتمل ہے...

  • احناف کی طرف سے پیش کئے جانے والے بلند بانگ مگر کھوکھلے دعاوی میں ایک دعوٰی یہ بھی کیا جاتا ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ نے فقہ کی تدوین کیلئے چالیس بڑے بڑے محدثین پر مشتمل ایک مجلس قانون ساز کمیٹی منتخب کی تھی، امام صاحب ان سے مشورہ لیتے تھے، ہر قسم کا مسئلہ زیر بحث آتا تھا ، اگر مجلس کا کسی مسئلہ پر اتفاق ہوتا تو درج کر لیا جاتا اور اگر اختلاف ہوتا تو کئی کئی روز اس پر بحث جاری رہتی اور یہ کام تیس سال تک ہوتا رہا۔ اور اس قصہ سے اصل مقصود چاروں اماموں کو برحق کہنے کے قولی دعوے کے برعکس دوسرے ائمہ کرام کی فقہ پر فقہ حنفی کی برتری ثابت کرناہے۔ حالانکہ قانون ساز کمیٹی کے اس دعوے کی کوئی حقیقت نہیں، ایک افسانے سے زیادہ اس کی کوئی وقعت نہیں۔ اس قصے کے بے اصل ہونے کے تمام دلائل اس کتاب میں درج کر دیے گئے ہیں۔مسلکی عصبیت سے ہٹ کر اس کتاب کا مطالعہ صراط مسقیم کی روشن شاہراہ کی طرف آپ کو ایک قدم آگے بڑھنے میں ضرور مد دے گا، ان شاء اللہ۔

  • 3 رحمت عالم (منگل 12 جنوری 2010ء)

    مشاہدات:16875
    اللہ تعالی نے اپنے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو تمام لوگوں کے لیے اسوہ کامل اور قابل تقلید نمونہ بنایا-یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی کا ایک ایک لمحہ کھلی کتاب کی طرح سب کے سامنے عیاں ہے- سید سلمان ندوی کی زیر نظر کتاب بھی اسی رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مقدسہ کی مختصر سی دستاویز ہے-جس میں سید صاحب نے عبارت کی سادگی، طرز ادا کی سہولت اور واقعات کے سلجھاؤ  کا خاص خیال رکھتے ہوئے سیرت طیبہ کے تمام پہلؤوں کی ایک جھلک دکھائی ہے- کتاب کا اسلوب اس قدر عام فہم ہے کہ چھوٹی عمر کے بچے اور معمولی سمجھ کے حامل لوگ بھی اس سے مکمل فائدہ اٹھا سکتے ہیں-

  • 4 روزہ اور جدید طبی مسائل (پیر 22 دسمبر 2014ء)

    مشاہدات:2014

    روزہ ایک ایسی عبادت ہے جو انسان کی نفسیاتی تربیت میں اہم کراداکرتی ہے ۔ نفس کی طہارت ، اس میں پیدا ہونے والی بیماریوں کی روک تھام او ر نیکیوں میں سبقت حاصل کرنے کی طلب روزے کے بنیادی اوصاف میں سے ہیں۔ اس لیے یہ لازم ہے کہ ہم روزےکو قرآن وسنت کی روشنی میں رکھنے ، افطار کرنے اور اس کے شرائط وآداب کو بجا لانے کا خصوصی خیال رکھیں۔دورِ سلف کی نسبت دورِ حاضر میں بہت سے جسمانی بیماریاں رونما ہورہی ہیں نیز طب میں جدید آلات اور دوا کے استعمال میں گوناگوں طریقے منظر عام آچکے ہیں بوقت ضرورت ان سے فائدہ اٹھانا ایک معمول بن چکا ہے۔روزے کے عام احکام ومسائل کے حوالے سے اردوزبان میں کئی کتب اور فتاوی جات موجود ہیں لیکن روزہ او رجدید طبی مسائل جاننےکےلیے اردو زبان میں کم ہی لٹریچر موجود ہےکہ جس سے عام اطباء او ر عوام الناس استفادہ کرسکیں۔ زیر نظر کتابچہ محترمہ ام عبد منیب صاحبہ نےانہی لوگوں کی آسانی کے لیے مختصراً ترتیب دیاہےموصوفہ نے مختلف اہل علم کے فتاویٰ جات سے استفادہ کر کے اسے آسان فہم انداز میں مرتب کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے عوام الناس کے لیے نفع بخش بنائے اور محترمہ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔آمین( م۔ا)

  • 5 شب براءت کی حقیقت (اتوار 09 جون 2013ء)

    مشاہدات:4373

    اسلامی شریعت کی خوبیوں میں سے ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندرکسی بھی نقص واضافہ کی گنجائش قطعی طور پرنہیں ہے ،اللہ تعالی نے اپنے فرمان: ’’ آج کے دن میں نے تمہارےلئے تمہارےدین کومکمل کردیا ہےاورتمہارےاوپراپنی نعمت کاا تمام کردیاہے،اوراسلام کوبطوردین پسندکرلیا ہے‘‘ (المائدۃ :3) میں اس کی مکمل وضاحت  فرمادی ہے ، اوراس کے عقائدواعمال کے اندرکسی بھی کمی وزیادتی کو سرےسے نکال دیاہے ، لیکن بدعت پرستوں اورشکم پرورعلماءنے مذکورہ آیت کریمہ کی دھجیاں اڑاتےہوئے دین میں بدعات وخرافات کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا اوراسلامی عقائدوعبادات کواپنی بدعتی چیرہ دستیوں سے داغدار کرکےامت مسلمہ کے عام افرادکوگناہوں کے شکنجہ میں جکڑکرصحیح عقائدوافکار اوراعمال وافعال سے کوسوں دورکردیا ،جس کا نمونہ آپ ان بدعتی محافل ومجالس   اور رسوم واعمال کے موقع سے ملاحظہ کرسکتےہیں ، جس میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینے والے ان  کے قیام اوردفاع میں جان کی بازی تک لگانے کو تیار ملیں گے، لیکن یہی جان فروش نمازپنجگانہ اورعقا‏ئدواعمال کی تصحیح کے لئےمنعقداجتماعات سے کوسوں دورنظرآئیں گے-الامان والحفیظ-

    بدعت پرستوں کی ایجادکردہ بدعتوں میں سے شعبان کی پندرہویں تاریخ کی رات میں کی جانے والی بدعتیں بھی  ہیں  جواسلام میں کئی صدیوں بعدایجاد کی گئیں،  جن کاثبوت نہ اللہ کے کلام میں ہے، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال وافعال میں اورنہ اتباع سنت کے خوگرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم  کے عہدمیں ۔

    <...
  • 6 مروجہ تعویذ اور معوذات نبویہ (بدھ 27 دسمبر 2017ء)

    مشاہدات:785

    اردو میں مستعمل لفظ’’تعویز‘‘ کا عربی نام’’التمیمۃ‘‘ہے عربی زبان میں ’’التمیمۃ ‘‘کے معنی اس دھاگے ،تار،یا گنڈے کے ہیں، جسے گلے یا جسم کے کسے اور حصے میں باندھا جائے۔ آج کل اس کا استعمال مسلم معاشرہ میں بہت زیادہ   ہو گیا ہے۔ اگر آج  امت محمدیہ کے افراد کی تلاشی لی جائے تو کسی کی گردن میں کاغذی تعویز لٹک رہا ہوگا، کسی میں چھوٹا سا قرآنی نسخہ۔ کسی میں کوڑیاں اور مونگے تو کوئی کالا دھاگہ باندھے ہوگا۔ کوئی امام ضامن پر تکیہ کئے ہوئے ہےتو کسی کو کالی بلی سامنے سے گزر جانے کا خوف ہے۔ کوئی مصیبت سے بچنے کیلئے تعویذ پہنتا ہے تو کوئی محبت کروانے کیلئے تعویذ کروا رہا ہے۔ قرآن سے دوری نے آج ہمیں اس مقام پر پہنچا دیا ہے کہ شرک امت کی رگ رگ میں رچتا بستا چلا جا رہا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’مروجہ تعویذاور معوذات نبویہِﷺ‘‘محترمہ ام عبد منیب کی تصنیف کردا ہے،جس میں وہ بیان کرنا چا ہتی ہیں کہ کس طرح آج کل ہمارے معاشرے تعویز پہننے یا تعویز لٹکانے کا رواج ہے، اور اکثریت غیر شرعی اور شرکیہ تعویزات کا ہی سہار لیتی ہے۔ سادہ لوح لوگ تو سرسے پیروں تک اس شرک میں ڈوبے ہوے ہیں ،اور بعض تعلیم یافتہ لوگ بھی جانے ان جانے میں اس گناہ میں ملوث دکھائی دیتے ہیں۔آخر میں اللہ رب العزت سے دعا کرتے ہیں کہ اللہ محترمہ ام عبد منیب کی اس کاوش کو قبول فرمائے۔آمین(شعیب خان)

  • 7 معیاری خاتون (بدھ 04 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:1265

    دنیا کے کسی مذہب اور کسی نظریۂ حیات نے عورت کو وہ عظمت نہیں بخشی جو اسلام نے عطا فرمائی۔یہ اسلامی  تعلیمات ہی کا فیضان تھاکہ مسلمانوں کے معاشرے میں امہات المومنین اور صحابیات مبشرات جیسی عظمت  مآب مثالی خواتین پید ا ہوئیں جن کے سایۂ عاطفت میں  عظیم علماء اور مجاہدینِ اسلام تربیت پاتے رہے ۔اسلام  نے تقسیم کاری کے  اصول  پر مرد اورعورت کا دائرہ عمل الگ الگ کردیا ہے ۔عورت کا فرض ہےکہ  وہ گھر میں رہتے ہوئے  اولاد کی سیرت سازی کے کام کو پوری یکسوئی اور سکونِ قلب کے ساتھ انجام دے۔ او ر مرد کافرض  ہے کہ وہ  معاشی ذمہ داریوں کابار اپنے کندھوں پر اٹھائے۔مسلمان عورت کے لیے  اسلامی تعلیمات  کا جاننا از بس ضروری ہے   ۔اور امر میں کسی شک وشبہ کی  گنجائش نہیں  کہ  مسلمان خواتین ایک مسلم معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ مسلمان عورت ماں کے روپ میں ہو یا بیٹی کے ،بیوی ہو یا  بہن اپنے  گھر کو سنوارنے پر آئے تو جنت کا نمونہ بنادیتی ہے  اوراگر بگاڑنے کی ٹھان لے تو جنت  نشان گھرانے کو جہنم کی یاد دلاتی ہے ۔ یہی وجہ  ہے کہ اسلامی تاریخ  کے ہر دور میں خواتین کی تعلیم وتربیت پر بے حد زور دیا جاتا رہا ہے ۔مصر کے مشہور شاعر حافظ ابراہیم کے  الفاظ ہیں:’’کہ ماں ایک درسگاہ ہے اوراس درسگاہ کو اگر  سنوار دیا تو گویا ایک باصول اورپاکیزہ نسب والی قوم وجود میں آگئی۔‘‘ زیر تبصرہ کتاب ’’معیاری خاتون‘‘مولانا عبد الغفار حسن ﷫(1913۔2007ء) کے  معیاری خاتون کے عنوان پر  ماہنامہ  عفت،لاہور  کے 1955ء۔1956ء کے شماروں  میں بالاقساط شائع ہونے والے  مضامین کی  کتاب صورت ہ...

  • 8 نظر بد سے بچاؤ کے طریقے اور علاج (جمعہ 06 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:1272

    جادو اور نظر بد کی ہلاکتوں ‘ بربادیوں اور تباہیوں سے کون واقف نہیں!! ہم اپنی روز مرہ زندگی میں آئے دن نظر بد کے تیروں سے بسمل انسانوں کی ماہئ بے آب کی طرح تڑپتے دیکھتےہیں۔ کتنے ہی لوگ ایسے مجروح ومقتول ہوتے ہیں کہ بولنے وبیان کرنے سے ہی قاصر ہو جاتے ہیں۔ کتنے ہی لوگ گم ہم کیفیت میں قبروں میں جا سوتے ہیں۔ یہ نظر کا تیر اپنے پرائے‘ چھوٹے بڑے‘ عزیز ورشتہ دار کسی کو نہیں چھوڑتا۔ شاید ایسے ہی کسی موقع پر نظر بد کو’’نگاہ ناز‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نظر بد تلوار کی طرح وار کر کے حضرت انسان کو کاٹ ڈالتی  ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب  خاص اسی موضوع پر ہےجس میں نظر بد سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اور طریقے وعلاج بتایا گیا ہے۔قرآن وسنت کی روشنی میں ایسی رہنمائی فراہم کی گئی ہے کہ جو پڑھنے والے کی بنجر وویران زندگی میں بہار کے جھونکوں کی آمد کی پیامبر ثابت ہوگی۔ اس کتاب کے مطالعے کے بعد نظر بد‘ حسد وبغض کی ہلاکت خیریوں سے بچنے کے لیے فائدہ بخش طریقے اور نظر بد کے چکروں سے نجات اور شافعی علاج  ممکن ہوگا۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے‘ حوالے فٹ

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 172
  • اس ہفتے کے قارئین: 3120
  • اس ماہ کے قارئین: 9983
  • کل مشاہدات: 41448859

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں