دکھائیں کتب
  • 1 اسلام یا جمہوریت (ہفتہ 12 مئی 2018ء)

    مشاہدات:1109

    اس وقت عالم اسلام کی جو مجموعی صورت حال ہے کسی بھی صاحب فکر ونظر سے مخفی نہیں‘ ایک زبردست کشمکش ہے جو اسلامیت اور مغربیت‘ اسلامی معاشرت اور مغربی تہذیب کے درمیان چل رہی ہے۔ امریکی استعمار اور سرمایہ داری کا تسلط اسلامی ممالک پر روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ افغانستان اور عراق کے بعد پاکستان واحد ملک ہے جس پر امریکی استعمار کی بھر پور توجہ مرکوز ہے۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ 2001ء کے بعد پاکستان کی آزاد حیثیت ختم ہو چکی ہے اور پاکستان امریکی کالونی میں تبدیل ہو چکا ہے‘ مگر 2008ء کے انتخابات کے دوران اور بعد میں امریکا نے براہِ راست پاکستانی اداروں میں جس طرح دھمکی‘ دھونس‘ مراعات اور پر کشش پیکج پیش کر کےپاکستانی سیاست کو اپنے ڈھب پر لانے کی کوشش کی ہے وہ ہماری آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہے۔ امریکا ایک طرف جہاں پاکستانی معاشرے کو تیزی کے ساتھ مکمل طور پر سیکولرائز کرنے کی طرف گامزن ہے وہیں اس کی خصوصی توجہ استعمار کے خلاف کسی بھی سطح پر مزاحمتی کردار ادا کرنے والی تحفظ وغلبۂ دین کی تحریکات بھی ہیں اور امریکا کے اس میں بہت سارے مقاصد چھپے ہیں۔زیرِ تبصرہ کتاب اسی سلسلے کی ایک صدائے باز گشت ہے۔ یہ کتاب در اصل اہل فکر ونظر کے مرتب کردہ لیکچرز کا مجموعہ ہے اور اس کتاب میں ان سب کو مقالات کی صورت میں پیش کیا گیا ہے۔یہ کتاب انقلابی مجاہدین کے لیے علمی ہتھیار ہے جس سے لیس ہو کر دور جدید کے لبرل دنش وروں اور مذہب کا لبادہ اوڑھ کر امریکی استعمار کی چاکری کرنے والے مفکروں کے پھیلائے ہوئے بے سروپا پروپیگنڈے کا مؤثر جواب دے سکتے ہیں۔ ک...

  • 2 اسلامی آداب معاشرت (اتوار 08 نومبر 2009ء)

    مشاہدات:15821
    زیر نظر کتاب میں مولانا صلاح الدین یوسف صاحب نے اسلام کا پیش کردہ  دستور حیات سادہ اور سلیس انداز میں پیش کیا ہے تا کہ ایک معمولی پڑھا لکھا مسلمان بھی آسانی سے اس کا مطالعہ کر سکے اور سچے دل سے دینی تعلیمات پر عمل کر سکے- مصنف نے کتاب میں مستند احادیث سے اللہ رب العزت پر پکے ایمان اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مطہرہ کی پیروی کے وہ تمام اصول یکجا کر دیے ہیں جن کی ہر مسلمان کو فوری اور اشد ضرورت ہے- کتاب کی بارہ ابواب میں تقسیم کی گئی ہے ابتدائی ابواب میں خشیت الہی اور اتباع رسول کا درس دیا گیا ہے جبکہ دیگر ابواب میں فضیلت قرآن، حسن معاشرت، اخلاق حسنہ اور  صفات المؤمن کا تذکرہ کرتے ہوئے نیکی وبدی میں امتیاز کی تعلیم کے ساتھ ساتھ حسن عمل کی تعلیم اور ترغیب پرروشنی ڈالی گئی ہے-فی الجملہ یہ کتاب مستند احادیث کی روشنی میں صحیح اسلامی زندگی کی جامع دستاویز ہے-
  • 3 بین الاقوامی تعلقات نظریہ اور عمل (ہفتہ 10 فروری 2018ء)

    مشاہدات:764

    اس وقت دنیا میں بین الاقوامی معاہدات کی حکومت ہے اور اقوام متحدہ اور اس کے ساتھ دیگر عالمی ادارے ان بین الاقوامی معاہدات کے ذریعہ دنیا کے نظام کو کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس لیے ہماری آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت یہ ہے کہ دنیا میں رائج الوقت بین الاقوامی معاہدات کا جائزہ لیا جائے اور اسلامی تعلیمات و احکام کے ساتھ ان کا تقابلی مطالعہ کر کے ان کی روشنی میں اپنا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی جائے۔ اور  بین الاقوامی معاہدات اور رسم و رواج کے حوالہ سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارک کیا ہے؟ جناب رسول اکرم صلی الہ علیہ وسلم نے دور جاہلیت کی بیشتر رسوم و رواجات کو جاہلی اقدار قرار دے کر مسترد فرما دیا تھا اور حجۃ الوداع کے خطبہ میں یہ تاریخی اعلان کیا تھا کہ":کل أمر الجاھلية"  موضوع تحت قدمی۔’’جاہلیت کی ساری قدریں میرے پاؤں کے نیچے ہیں۔‘‘لیکن کچھ روایات اور رسوم کو باقی بھی رکھا تھا جس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جہاں جاہلی اقدار سے معاشرے کو نجات دلانا ضروری ہے وہاں اگر کوئی عرف و تعامل اسلامی اصولوں سے متصادم نہ ہو تو اسے قبول بھی کیا جا سکتا ہے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ بین الاقوامی تعلقات نظریہ اور عمل‘‘ محمد اعظم چوھدری صاحب کی ہے۔ جس میں تعارف بین الاقوامی تعلقات، قومی ریاست، ریاستی تنازعات کی اکائیاں، سماجی معاشی و سیاسی تحریکیں، جنگ عظیم اول و دوم، بین الاقوامی معاشرے کی اکائیاں، غیر ملکی امداد اور اقتصادی انضمام، بین الاقوامی دفاعی معاہدات، معاشرے کے مسائل اور پاکستان...

  • 4 پاکستان میں جمہوریت کے تضادات (ہفتہ 01 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:490

    جمہوریت ایک سیاسی نظام ہے یعنی عوام کی اکثریت کی رائے سے حکومت کا بننا اور اس کا بگڑنا۔ اس نظام میں انفرادی آزادی اور شخصی مساوات کے تصورات کو جو اہمیت دی گئی ہے اس کی وجہ سے عہد حاضر میں اس کی طرف لوگوں کا میلان زیادہ ہے۔اگرچہ بہت سے مسلم دانشور اس طرزِ حکومت کے حامی ہیں۔لیکن ہر دور میں اصحابِ علم کی ایک بڑی تعداد نے جن میں مسلمان بھی شامل ہیں، جمہوریت کو ناپسند کیا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ اس میں عوام کی حاکمیت اور مطلق آزادی کا تصور غیر عقلی اور باعثِ فساد ہے۔پاکستان میں جمہوری نظام کے قیام کی خواہش کا فی مستحکم نظر آتی ہے لیکن سیاسی اور معاشرتی عمل میں اتنے تضادات موجود ہیں کہ جمہوریت میں ابھی تک تسلسل پیدا نہ ہوسکا اور نہ پائیداری۔جمہوریت کی خواہش اور کوشش کے باوجود جمہوریت کا پر وان نہ چڑھنا جمہوری عمل کے نازک اور مشکل ہونے کا ثبوت ہے ۔
    زیر نظر کتاب ’’پاکستان میں جمہوریت کے تضادات‘‘ پاکستان کے معروف سیاسی تجزیہ نگار جناب سلمان عابد صاحب کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے عام فہم اور مؤثر اندازمیں پاکستان میں جمہوریت کو درپیش مشکلات کا حل تلاش کرنے کی کوشش ہے۔انہوں نے نہ صرف پاکستان کی سیاسی تاریخ اور حکومتوں کے بننے اور ٹوٹنے کی بات کی بلکہ ان عناصر اور رجحانات کا جائزہ لیا ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں جمہوریت گہری جڑیں نہ پکڑ سکی۔فاضل مصنف نے اپنے تجزیے کو جامع کرنے کے لیے بہت سے ایسے مصنفین اور سیاست دانوں کی تحریروں کا سہارا لیا ہے جنہوں نے اپنےاپنے مخصوص انداز میں پاکستان کی سیاست اورمعاشرت کے تضادات کا تجزیہ کرتے ہوئے ا...

  • 5 تحریک ختم نبوت - جلد1 (منگل 11 فروری 2014ء)

    مشاہدات:20515

    تمام مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ حضرت محمدﷺ اللہ کے آخری نبی ہیں۔ اور وہ یہ بھی اعتقاد رکھتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر موت نہیں آئی، وہ زندہ اٹھا لیے گئے تھے اور قرب قیامت وہ دوبارہ اس دنیا میں تشریف لائیں گے۔ لیکن مرزا غلام احمد قادیانی نے دعویٰ کیا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی موت واقع ہو چکی ہے اور جس عیسیٰ کے لوگوں کو آنے کا انتظار ہے وہ عیسیٰ یامثیل وہ خود ہیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد انھوں نے یہ دعویٰ بھی فرما دیا کہ وہ اللہ کے نبی ہیں۔ اس کے رد عمل کے طور پر ہندوستان کے طول و عرض میں تحریک ختم نبوت کا آغاز ہوا جس میں مرزا کے دعاوی کی تردید اور مسلمہ عقائد مسلمین کی تائید کا کام شروع ہوا۔ کتاب ہذا ان مضامین کا مجموعہ ہے جو 1995ء کے آخر سے تحریک ختم نبوت کے عنوان سے ’صراط مستقیم‘ برمنگھم میں سلسلہ وار شائع ہوتے رہے۔ ڈاکٹر محمد بہاؤ الدین مبارک باد کے مستحق ہیں کہ انھوں نے اس قدر قیمتی کام کو یکجا صورت میں پیش کرنے کی سعی کی۔ (ع۔م)
     

  • 6 جمہوریت پاکستان میں (ہفتہ 03 فروری 2018ء)

    مشاہدات:472

    ۱۹۶۲ء کی بات ہے جب صدر محمد ایوب خان مرحوم نے مارشل لا ختم کرتے وقت نئے دستور کی تشکیل وترتیب کے کام کا آغاز کیا تھا اور پاکستان کے نام سے ’’اسلامی‘‘ کا لفظ حذف کر کے اسے صرف ’’جمہوریہ پاکستان‘‘ قرار دینے کی تجویز سامنے آئی تھی تو دینی وعوامی حلقوں نے اس پر شدید احتجاج کرتے ہوئے حکومت کو یہ تجویز واپس لینے پر مجبور کر دیا تھا۔ میری عمر اس وقت چودہ برس تھی اور میں نے بھی بحمد اللہ تعالیٰ اس جدوجہد میں اس طور پر حصہ لیا تھا کہ اپنے آبائی قصبہ گکھڑ میں نظام العلماء پاکستان کی دستوری تجاویز پر لوگوں سے دستخط کرائے تھے اور اس مہم میں شریک ہوا تھا۔ تب سے اب تک ملک میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کا کارکن چلا آ رہا ہوں، ہر تحریک میں کسی نہ کسی سطح پر شریک رہا ہوں اور اب بھی حسب موقع اور حتی الوسع اس کا حصہ ہوں۔ کسی دینی جدوجہد کے نتائج وثمرات تک پہنچنا ہر کارکن کے لیے ضروری نہیں ہوتا، البتہ صحیح رخ پر محنت کرتے رہنا اس کی تگ ودو کا محور ضرور رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ مرتے دم تک اس جادۂ مستقیم پر قائم رہنے کی توفیق سے نوازیں۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ جمہوریت پاکستان میں‘‘ ڈاکٹر وحید عشرت صاحب کی کاوش ہے۔ جس میں جمہوریت کا معنیٰ و مفہوم بیان کرتے ہوئے پاکستان میں پائی جانے والی جمہوریت کی وضاحت کی ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے اور امت مسلمہ کو  عزت ومقام عطا فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)
     

  • 7 جمہوریت و شورائیت کا تقابلی جائزہ (اتوار 03 جون 2018ء)

    مشاہدات:728

    یقیناً اس میں شک نہیں کہ نظامِ سیاست وحکومت کے بغیر کسی بھی معاشرے کا پنپنا اور ترقی کی شاہ راہ پر گام زن رہنا تو کجا اس کا وجود تک خطرہ میں پڑ جاتا ہے ۔ یہی وجہ ہےکہ اسلام کے دونوں بینادی مآخذ ،قرآن مجید اور حدیث وسنت نبوی ﷺ میں اس بارے میں ٹھوس اساسی اصول وضع کردیئے گے ہیں۔قرآن مجید نے وَأَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُم کے اصول کے ذریعے اسلامی نظام ِ حکومت کے حقیقی خدو خال کا تعین کردیا ہے ۔ مشورے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم میں "شوریٰ" نام کی ایک سورت ہے۔ اور حضور اکرم ﷺ کو صحابہ کرام ؓ کے ساتھ مشورہ کرنے کا حکم دیا گیا ۔ ارشاد ربانی ہے’’ وَشَاوِرْھُمْ فِي الْاَمْرِ ۚ فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَكَّلْ عَلَي اللّٰهِ ۭ اِنَّ اللّٰهَ يُحِبُّ الْمُتَوَكِّلِيْنَ (آل عمران: ١٥٩ ) ‘‘ عہد نبوی اور عہد صحابہ میں کئی ایک باہمی مشورہ کی مثالیں مو جود ہیں ۔ باہمی مشاورت کا اصول اسلامی ریاست کے نظامِ سیاست وحکومت کی اساس ہے ۔اسی حکم قرآنی سے شورائی نظا م نے ہی جنم نہیں لیا بلکہ اس نے شورائیت کے پورے ڈھانچے کے خدوخال تشکیل دینے میں بھی اہم کرداردار ادا کیا ہےاسی سے ایک ایسا نظام معرض ِ وجود میں آیا جو اپنا جداگانہ تشخص رکھتا ہے۔اسے مزید انفرادیت ان احکامات وتعلیمات نے عطا کی جو قرآن وحدیث میں ہمیں ملتی ہیں۔اور یہی تعلیمات ہمیں بتلاتی ہیں کہ مسلمانوں کی زمامِ کار او...

  • 8 سرور کائنات کے پچاس صحابہ (ہفتہ 15 جون 2013ء)

    مشاہدات:5683
    صحابہ کرام رضی اللہ عنہم وہ نفوس قدسی ہیں جن کو خاتم الانبیاﷺکےجمال جہاں آراسے اپنی آنکھیں روشن کرنے اور آپ کی مجلس نشینی کی سعادت نصیب ہوئی۔محسن انسانیت کے فیض صحبت نے ان کے شرف انسانیت کو جیتی جاگتی تصویر بنادیا۔ ان کاہر فرد خشیت الہی ،حق گوئی،ایثار،قربانی ،تقوی ،دیانت ،عدل اوراحسان کاپیکرجمیل تھا۔تمام علمائے حق کا اس بات پرکامل اتفاق ہےکہ صحبت رسول ﷺسے بڑھ کرکوئی شرف اور بزرگی نہیں۔اس صحبت سےمتمتع ہونےوالےپاک  نفس ہستیوں کی عظمت اور حسن کردار پراللہ تعالی نے قرآن حکیم میں جابجامہر ثبت فرمائی ہے۔ان عظیم ہستیوں کی سیرت کا ایک بہترین مرقع تیار کرکے جناب طالب ہاشمی صاحب نے ہمارے ہاتھوں میں تھمادیاہے۔تاکہ ہم اس ان نقوش سے راہ ہدایت پاسکیں۔اور اپنی دنیا وآخرت کو بہتر بناسکیں۔اس سلسلے میں واضح رہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی سیرت کے حوالے سے ایک نہایت اہم باب  مشاجرات صحابہ ہے جوکہ ایک انتہائی نازک باب ہے ہاشمی صاحب  نےاس میں اہل سنت کےطریقےپرچلتےہوئے کف لسان کامؤقف  اختیار کیا ہے۔(ع۔ح)

  • 9 کیا سیاست عقیدہ اکٹھے رہ سکتے ہیں ؟ (جمعرات 18 اکتوبر 2018ء)

    مشاہدات:506

    سیاست اور عقیدہ  یا سیاست اور اسلام   دونوں الگ الگ نہیں ہیں بلکہ سیاست بھی اسلام  اور عقیدہ کا حصہ ہے عقیدہ دراصل لفظ "عقد" سے ماخوذ ہے ، جس کے معنیٰ ہیں کسی چیز کو باندھنا یعنی عقیدہ سے مراد کسی چیز کو حق اور سچ جان کر دل میں مضبوط اور راسخ کر لینا ہےعقیدہ انسان کے کردار و اعمال کی تعمیر میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ انسان کے تمام اخلاق و اعمال کی بنیاد ارادے پر ہے، اور ارادے کا محرک دل ہوتا ہے اور ظاہر ہے کہ دل انہی چیزوں کا ارادہ کرتا ہے جو دل میں راسخ اور جمی ہوئی ہوں، اس لئے انسان کے اعمال و اخلاق کی درستگی کے لئے ضروری ہے کہ اس کے دل میں صحیح عقائد ہوں لہذا عقیدے کی اصلاح ضروری ہے۔سیاست  Politics’’ساس‘‘ سے مشتق ہے جو یونانی زبان   کا ہےاس کےمعانی شہر وشہر نشین کے ہیں  اس میں  سیاست اس فعل کو  کہتے ہیں جس کا انجام دینے  سے لوگ اصلاح  کےقریب اور فساد  سے دور ہوجائیں۔ اہل مغرب فن حکومت کو سیاست کہتے  ہیں ۔ امور مملکت کانظم ونسق برقرار رکھنے والوں کو سیاست دان کہا جاتا ہے ۔ قرآن کریم میں لفظ سیاست تو نہیں البتہ ایسی بہت سی آیات موجود ہیں  جو سیاست...

  • 10 لازوال خالق کے تخلیقی عجائب (جمعرات 30 اکتوبر 2014ء)

    مشاہدات:2139

    معمولی سے معمولی زندگی بھی اتفاقا پیدا نہیں ہوئی ،بلکہ اس کو پیدا کرنے والی ایک عظیم ذات ہے جواس ساری کائنات کی مالک ہے۔ یہ لا محدود کائنات ،جس میں ہم رہتے ہیں،کس طرح وجود میں آئی ؟یہ تمام توازن،ہم آہنگی اور نظم وضبط کس طرح سے پیدا ہوئے؟یہ کیونکر ممکن ہوا کہ یہ زمین ہمارے رہنے کے لئے موزوں ترین اور محفوظ قیام گاہ بن گئی؟ایسے سوالات نوع انسانی کے ظہور ہی سے توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ان کے جوابات کی تلاش میں  سرگرداں سائنس دان اور فلسفی ،اپنی عقل ودانش اور عقل سلیم کی بدولت اسی نتیجے پر پہنچے ہیں کہ  کائنات کی صورت گری اور اس میں موجود نظم وضبط کسی اعلی ترین خالق مطلق کی موجودگی کی شہادت دے رہے ہیں۔جو اس ساری کائنات کا خالق و مالک ہے۔یہ ایک غیر متنازعہ سچائی ہے ،جس تک ہم اپنی ذہانت استعمال کرتے ہوئے پہنچ سکتے ہیں۔اللہ تعالی نے اس حقیقت کا اعلان اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں واشگاف الفاظ میں کر دیا ہے۔ زیر تبصرہ کتاب " لازوال خالق کے تخلیقی عجائب "ہارون یحیی کی انگریزی کتاب کا اردو ترجمہ ہے ۔ترجمہ محترمہ گلناز کوثر نے کیا ہے ۔مصنف 1956ء میں انقرہ ترکی میں پیدا ہوئے ۔آپ نے آرٹس کی تعلیم میمار سینان یونیورسٹی سے اور فلسفے کی تعلیم استنبول یونیورسٹی سے حاصل کی۔آپ کی سیاست ،سائنس اور اسلامی عقائد پر متعدد کتب شائع ہو چکی ہیں۔آپ کا شمار ان معروف مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے ارتقاء پرستی اور ارتقاء پرستوں کے دعووں کو طشت ازبام کیا اور ان کی حقیقت سے پردہ اٹھایا۔آپ کی یہ کتب دنیا کی متعدد زبانوں میں چھپ چکی ہیں۔آپ کی کتب مسلمانوں ،غیر مسلموں سب کو مخاطب...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 421
  • اس ہفتے کے قارئین: 951
  • اس ماہ کے قارئین: 11263
  • کل مشاہدات: 41453613

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں