دکھائیں کتب
  • 1 احکام وقف و ہبہ (پیر 05 جون 2017ء)

    مشاہدات:1248

    کسی بھی چيز کی اصل کو روک کر رکھنے اور اس میں ہبہ یا وراثت کے تصرف نہ کرنے بلکہ کسی بھی قسم کا تصرف نہ کرنے کو وقف کہا جاتا ہے تاکہ اس چيز کے نفع کو وقف کرنے والے کےارادہ کے مطابق خیر و بھلائی کے کاموں میں صرف کیا جا سکے ۔سب سے بہتر وقف یہ ہے کہ اسے خیر و بھلائی کے کاموں میں وقف کیا جائے۔ اور ہبہ ، ہدیہ اور صدقہ وقف کی ذیلی اقسام ہیں غریبوں اورضرورت مندوں کی مدد کے طریقے ہیں جن کی ترغیب کتاب وسنت میں دلائی گئی ہے ۔ لغوی اعتبار سے اگر کوئی ریئس ، بادشاہ وغیرہ کسی چھوٹے کوکوئی عطیہ دے تواسے ہبہ کہاجاتا ہے جبکہ اگر چھوٹا کسی بڑے کوکچھ نذرکرے تو اسے ہدیہ کہاجاتاہے ۔ اصطلاح میں ہبہ ایک شخص کا دوسرے کوجائیداد منقولہ یا غیرمنقولہ کا فوری اور بلامعاوضہ مالک بنا دینے اورشی موہوبہ کےحق ملکیت سےدستبردار ہونے کا نام ہبہ ہے۔ ہبہ کا لفظ ایک مخصوص اصطلاح فقہ کے طور پر عہدنبوی ہی میں بکثرت استعمال ہونے لگا تھا۔ متاخر عہد فقہاء نےشرح وبسط سےاس کےتفصیلی احکام بیان کیے ہیں ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’احکام وقف وہبہ ‘‘شیخ الحدیث مولانامحمد علی جانباز ﷫ کی تصنیف ہے ۔یہ رسالہ انھوں نے 1987ء میں لاہور ہائیکورٹ کووقف کےمتعلق درپیش معاملہ پر تحریر کی ۔کیونکہ وکلا حصرات نے مولانا سے وقف ،ہبہ کے متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں معلومات طلب کی تھیں اور مولاناجانباز﷫ نے اس رسالہ میں تین مسائل (وقفہ ، ہبہ ، شفعہ ) متعلق کتاب وسنت کی روشنی میں تفصیلی مواد جمع کر کے وکلا کے سامنےپیش کیا ۔ بعد ازاں اسے کتابی صورت میں بھی شائع کردیا گیا تاکہ عوام الناس اور وکلاء حضرات اس...

  • 2 اختلاف رائے، آداب و احکام (منگل 19 اگست 2014ء)

    مشاہدات:2343

    امت محمدیہ آج جن چیزوں سے دوچار ہے ،اور آج سے پہلے بھی دو چار تھی ،ان میں اہم ترین چیز بظاہر اختلاف کا معا ملہ ہے جو امت کے افراد وجماعتوں، مذاہب وحکومتوں سب کے درمیان پایا جاتا رہا اور پایا جاتا ہے یہ اختلاف کبھی بڑھ کر ایسا ہوجاتا ہے کہ گروہ بندی تک پہنچ جاتا ہے اور یہ گروہ بندی باہمی دشمنی تک اور پھر جنگ وجدال تک ذریعہ بنتی ہے ۔اور یہ چیزیں اکثر دینی رنگ وعنوان بھی اختیار کر لیتی ہیں جس کے لیے نصوصِ وحی میں توجیہ وتاویل سے کام لیا جاتا ہے ، یا امت کے سلف صالح صحابہ وعلماء واصحاب مذاہب کے معاملات وحالات سے استناد حاصل کیا جاتا ہے ۔اور اختلاف اساسی طورپر دین کی رو سے کوئی منکر چیز نہیں ہے ،بلکہ وہ ایک مشروع چیز ہے جس پر کتاب وسنت کے بے شمار دلائل موجود ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ اختلاف رائے احکام وآدا ب‘‘ فضلیۃ الشیخ دکتور سلمان فہد عودہ کی عربی تصنیف ’’ فقہ الاختلاف ولا یزالون مختلفین‘‘ کا   اردو ترجمہ ہے ۔مؤلف موصوف نے اس کتاب میں اساسی حیثیت سے اختلاف کی شرعی نوعیت کا تذکرہ کیا ہے ، اور اس کو کتاب وسنت ،نیز صحابہ وعلماء مجتہدین کی سیرت وکردار کی روشنی مین واضح کیا ہے ۔اور اس مشروعیت کےپیچھے نظری وعملی طور پر جو صالح نتائج وثمرات ہیں ان کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اور ان آداب کوبھی بیان کیا ہے جن کی رعایت اس غرض سے کی جانی چاہئے تاکہ اختلاف سے وہ صالح فائدہ وثمرہ حاصل کیا جا سکے جواس کی مشروعیت سے مقصود ہے خواہ یہ اس سلسلے کے اخلاقی آداب ہوں یا عملی وانتطامی۔اس کتاب کو اپنی پوری تفصیل میں اس انداز پر مرتب کیا گیا ہے کہ اس میں علمی وبنیادی انداز م...

  • 3 اذکار المسلم (اتوار 06 جولائی 2014ء)

    مشاہدات:2403

    شریعتِ اسلامیہ میں عبادات اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان مناجات کانام ہے اور بندے کا اپنے خالق سےقلبی تعلق کا اظہار ہے ۔ایک مسلمان جب اپنی غمی،خوشی اور زندگی کے دیگر معاملات میں اللہ سےرہنمائی حاصل کرتا ہے تو اس کا یہ تعلق اس کے رب سے اور بھی گہرا ہوجاتا ہے ۔ عبادات کاایک حصہ ان دعاؤں پر مشتمل جو ایک مسلمان چوبیس گھنٹوں میں شارع ﷺ کی دی ہوئی رہنمائی کے مطابق بجا لاتا ہے او ر یقیناً مومن کےلیے سب سے بہترین ذریعہ دعا ہی ہے جس کے توسل سے وہ اپنے رب کو منالیتا ہے اور اپنی دنیا وآخرت کی مشکلات سے نجات پاتا ہے۔کتبِ احادیث نبی کریمﷺ کی دعاؤں سے بھری پڑی ہیں ۔مگر سوائے صحیح بخاری اور صحیح مسلم کے تمام احادیث کی کتب میں صحیح ضعیف اور موضوع روایات مل جاتی ہیں ۔دعاؤں پر لکھی گئی بے شمار کتب موجود ہیں اوران میں ایسی بھی ہیں جن میں ضعیف وموضوع روایات کی بھر مار ہے ۔زیر نظر کتاب''اذکار المسلم ''بھی مذکورہ سلسلے کی ایک کڑی ہے ۔لیکن اس کی انفرادیت یہ ہےاس کتاب سے قبل چھپنے والی تمام کتب کو اس میں یکجا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اور پھر ان تمام احادیث کی تخریج وتحقیق کا حتی المقدور اہتمام کیا گیا ہے ۔اور اس میں صحیح اور ضعیف احادیث کوالگ الگ رنگوں سے ممیز کیا گیا ہے ۔تاکہ قارئین با آسانی ان احادیث کی اسناد میں فرق کرسکیں۔اس کتاب کو محترم طاہر عثمان بادوزئی نے مرتب کرکے خوبصورت اندازمیں عمدہ اور طباعت کے اعلی معیار پر رنگین شائع کیا ہے ۔اس میں تحقیق وتخریج کے فرائض مولانا فاروق رفیع﷾(مدرس جامعہ لاہور الاسلامیہ) نے انجام دئیے ہیں ۔اللہ تعالی اس کتاب کو شرف ق...

  • 4 اردو کا آسان قاعدہ (جمعہ 14 فروری 2014ء)

    مشاہدات:19768
    زیر نظر کتابچہ ’اردو کا آسان قاعدہ‘ مولوی موسیٰ سلیمان کرماڈی کی تالیف ہے ، جو انہوں نے چھوٹے بچوں کو اردو حروف سے واقفیت کے لیے ترتیب دیا ہے۔ 27 صفحات کا یہ قاعدہ اگر بچوں کو سبقاً پڑھا دیا جائے تو بہت جلد بچوں کو اردو زبان سے شد بد ہو جائے گی۔ قاعدہ میں مؤلف نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ بچوں میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ لکھائی کی بھی صلاحیت پیدا ہو۔ صفحہ 5 تا 10 میں ایسا اسلوب اختیار کیا گیا ہے جس سے بچوں کو جلد لکھنا آ جائے۔ روز مرہ کی ضروری بول چال کے اردو جملے، دنوں اور مہینوں کے نام اور گنتی لفظوں میں بتائی گئی ہے۔ (ع۔م)

  • 5 اسلام کا معاشی نظام اور معاشی نظریات (منگل 03 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:751

    اسلامی معاشیات ایک ایسا مضمون ہے جس میں معاشیات کے اصولوں اور نظریات کا اسلامی نقطہ نظر سے مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ ایک اسلامی معاشرہ میں معیشت کس طرح چل سکتی ہے۔ موجودہ زمانے میں اس مضمون کے بنیادی موضوعات میں یہ بات شامل ہے کہ موجودہ معاشی قوتوں اور اداروں کو اسلامی اصولوں کے مطابق کس طرح چلایا جا سکتا ہے ۔ اسلامی معیشت کے بنیادی ستونوں میں زکوٰۃ، خمس، جزیہ وغیرہ شامل ہیں۔ اس میں یہ تصور بھی موجود ہے کہ اگر صارف یا پیداکاراسلامی ذہن رکھتے ہوں تو ان کا بنیادی مقصد صرف اس دنیا میں منافع کمانا نہیں ہوگا بلکہ وہ اپنے فیصلوں اور رویوں میں آخرت کو بھی مدنظر رکھیں گے۔ اس سے صارف اور پیداکار کا رویہ ایک مادی مغربی معاشرہ کے رویوں سے مختلف ہوگا اور معاشی امکانات کے مختلف نتائج برآمد ہوں گے۔ اسلامی مالیات اور کاروبار کے بنیادی اصول قرآن وسنت میں بیان کردیے گئے ہیں۔ اور قرآن وحدیث کی روشنی میں علمائے امت نے اجتماعی کاوشوں سے جو حل تجویز کیے ہیں وہ سب کے لیے قابل قبول ہونے چاہئیں۔کیونکہ قرآن کریم اور سنت رسول ﷺ کے بنیادی مآخذ کو مدنظر رکھتے ہوئے معاملات میں اختلافی مسائل کےحوالے سے علماء وفقہاء کی اجتماعی سوچ ہی جدید دور کے نت نئے مسائل سے عہدہ برآہونے کے لیے ایک کامیاب کلید فراہم کرسکتی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’اسلام کا معاشی نظام اور معاشی نظریات‘‘مولانا سید محمد امین الحق کی تصنیف ہے ۔ فاضل مصنف نے بڑے محققانہ انداز میں اسلام کے نظامِ معاش ، وسائل معاش اور نظریات معاش پر کلام کیا ہے ۔خاص طور پر مصنف نے زراعت اور کاشتکاری سے متعلق مسائل کو...

  • 6 اسلام کا نظام بیت المال (منگل 03 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:525

    دور نبوی ﷺمیں فتوحات کا سلسلہ شروع ہوا تو زمین کا محصول، مال غنیمت کا خمس،زکوٰۃ  ، عشر، جزیہ وغیرہ کی آمدنی ہونے لگی تھی۔ اس آمدنی میں اضافہ ہوا تو حضرت عمر نے اپنے دور خلافت میں بیت المال کا محکمہ قائم کیا۔ اس سے تمام مسلمانوں کو تنخواہ یا وظیفے دیے جاتے تھے۔ مرکز کے علاوہ صوبوں کے صدر مقام پر بیت المال قائم کیے گئے تھے اور ان کا باقاعدہ حساب رکھا جاتا تھا۔ ہر صوبے کی آمدنی وہاں کے بیت المال میں جمع ہوتی تھی اور حکومت کے اخراجات پر جو کچھ خرچ ہوتا ،اس کے بعد باقی رقم مرکزی بیت المال میں جمع کردی جاتی تھی۔ خلافت راشدہ کے بعد بیت المال شاہی خزانہ بن گیا اور اس کا زیادہ حصہ بادشاہوں کی شان و شوکت پر صرف ہونے لگا۔مسلمانوں کے بیت المال کیلئے ذرائع آمدن زمانہ قدیم سے لیکر اب تک بہت زیادہ ہیں۔ جس میں  زکاۃ اور اسکی تمام اقسام،مال ِغنیمت،زمین سے نکلنے والی معدنیات،رکاز [مدفون خزانہ] کا پانچواں حصہ،مال فیہ۔ وغیرہ شامل ہے موجودہ زمانے میں بیت المال کے ذرائع آمدن میں  ملکی زمین سے دریافت ہونے والی قدرتی معدنیات، پٹرول، قدرتی گیس۔۔۔۔ اور دیگر معدنیات ہیں، بہت ہی کم ایسے ممالک ہیں جہاں ایسے ذرائع آمدن نہیں ہیں۔انہی ذرائع آمدن میں یہ بھی شامل کیا جائے گا کہ  ایسی آمدن جو حکومت کی جانب سے زرعی، انڈسٹری، تجارتی یا سروسز کے شعبے میں قائم کردہ منصوبوں سے حاصل ہوتی ہے، اور لوگوں کی خدمت کیلئے  ان کی مصنوعات کو فروخت کیا جاتا ہے، مثلاً: بجلی، ٹیلیفون، اور پانی ۔۔۔ الخ اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ مسلمانوں کے بیت المال کیلئے مالی ذرائع آمدن...

  • 7 باران توحید (بدھ 14 جنوری 2015ء)

    مشاہدات:1603

    تمام انبیاء کرام ؑ ایک ہی پیغام اورایک ہی دعوت لےکر آئےکہ لوگو! صرف اللہ کی عبادت کرو او راس کےسوا تمام معبودوں سےبچو۔تمام انبیاء کرام سالہاسال تک مسلسل اس فریضہ کو سرانجام دیتے رہے انھوں نے اس پیغام کو پہنچانےکےلیے اس قدر تکالیف برداشت کیں کہ جسکا کوئی انسان تصور بھی نہیں کرسکتاہے ۔ حضرت نوح ؑ نے ساڑے نوسوسال کلمۂ توحید کی طرف لوگوں کودعوت دی ۔ اور   اللہ کے آخری رسول سید الانبیاء خاتم النبین حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ نےبھی عقید ۂ توحید کی دعوت کے لیے کس قدر محنت کی اور اس فریضہ کو سر انجام دیا کہ جس کے بدلے   آپ ﷺ کو طرح طرح کی تکالیف ومصائب سے دوچار ہوناپڑا۔ عقیدہ توحید کی تعلیم وتفہیم کے لیے   جہاں نبی کریم ﷺ او رآپ کے صحابہ کرا م ؓ نے بے شمار قربانیاں دیں اور تکالیف کو برداشت کیا وہاں علمائے اسلام نےبھی دن رات اپنی تحریروں اور تقریروں میں اس کی اہمیت کو خوب واضح کیا ۔ہنوز یہ سلسلہ جاری وساری ہے۔ زیر نظر کتاب ’’ باران توحید‘‘ جماعۃ الدعوۃ باکستان کے مرکزی راہنما مولانا امیر حمزہؒ کی مایۂ ناز کتاب ہےجس میں توحید کے متعلق اکثر موضوعات کا احاطہ کیا گیا ہے۔ مولانا امیر حمزہ ؒ نے معاشرے میں موجود شرک کی مختلف شکلوں کو بنیاد کر توحید کی وضاحت اس انداز میں کی ہے کہ ایک عام قاری بھر پور استفادہ کرسکتاہے ۔ جو شخص دعوت توحید کا پیغمبرانہ کام کرنا چاہتا ہے اوریہ دعوت دینا چاہتا ہے تووہ ’’بارانِ توحید ‘‘ جیسی غیر فرقہ وارانہ کتاب کےمضامین سامنے رکھے ۔ اس کتاب کےہر عنوان میں قرآنی آیات ہیں اور صاحبِ قرآن محمد رسول اللہ ﷺ کی احادیث ہیں ۔ الغرض یہ کتاب ع...

  • 8 تجارت کے اسلامی اصول و ضوابط (جمعہ 10 اگست 2018ء)

    مشاہدات:882

    عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے ، جس طرح عقائد اور عبادات کے بارے میں جزئیات واحکام بیان کیے گئے ہیں ،اسی طرح شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کرنے کا اہتمام کیاہے ، حلال وحرام،مکروہ اور غیر مکروہ ، جائز اور طیب مال کے مکمل احکام قرآن وحدیث میں موجود ہیں اور شریعت کی دیگر جزئیات کی طرح اس میں بھی مکمل رہنمائی کی گئی ہے ، جولوگ نماز اور روزہ کا اہتمام کرتے ہیں مگر صفائی معاملات اور جائز وناجائز کی فکر نہیں کرتے ، وہ کبھی اللہ کے مقرب نہیں ہوسکتے۔تجارت کسب معاش کا بہترین طریقہ ہے ، اسے اگر جائز اور شرعی اصول کے مطابق انجام دیاجائے تو دنیوی اعتبارسے یہ تجارت نفع بخش ہوگی اور اخروی اعتبار سے بھی یہ بڑے اونچے مقام اور انتہائی اجروثواب کا موجب ہوگی ، تجارت ؍کا روبار اگر  اسلامی اصول کی روشنی میں کیاجائے تو ایسی تجارت کی بڑی فضیلت آئی ہے اور ایسے افراد کو انبیاء وصلحاء کی معیت کی خو شخبری دی گئی ہے ۔ زیر تبصرہ کتاب ’’تجارت کے اسلامی اصول وضوابط‘‘پروفیسر ڈاکٹر نور محمد غفاری‘‘ (سابق استاذ انٹرنیشنل یونیورسٹی ،اسلام آباد،سابق ممبر قومی اسمبلی ) کی تصنیف ہے ۔یہ کتاب اٹھ ابواب پر مشتمل ہے  پہلا باب تجارت کے مفہوم اور اس کی اہمیت   پر ہے دوسرے باب میں قبل از اسلام عربوں کی تجارتی سرگرمیوں ، قریش کے تجارتی اسفار ، ان کے معاہدات او راس دور کی چند جائز تجارتی شکلوں پر رروشنی ڈالی ہے۔اور مسلمانوں کی تجارتی ترقیات ، ان کی تجارتی گذرگاہوں اور اشاعت اسلام کے لئے ان کی عظمت ِ کردار کے اثرات کو زیر بحث لایا...

  • 9 ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ (اتوار 09 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:665

    ترقی یافتہ ملک یا زیادہ ترقی یافتہ ملک ایک خود مختار ملک ہے جس کی معیشت انتہائی ترقی یافتہ اور کم ترقی یافتہ اقوام کے مقابلے میں اسکا بنیادی ڈھانچہ جدید ٹیکنالوجی پر مبنی ہے۔اور کوئی ملک یا معاشرہ کسی بھی قسم کی ترقی کا تصور ہی نہیں کرسکتا جب تک وہ معاشرے یا قوم علم کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرلیتے اور اس کو اپنے ملک کی ترقی کیلئے ناگزیر نہیں سمجھ لیتے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اگر ہم جائزہ لیں تو وہی ملک ترقی کی بلندیوں پر نظر آتے ہیں جنہوں نے علم کی اہمیت کو تسلیم کیا۔چونکہ تجربے نے ثابت کیا ہے کہ علم کے بغیر کسی شعبہ میں انسان ترقی و تعمیرکا سوچ بھی نہیں سکتا۔ اس تناظر میں معاشی واقتصادی ترقی کے لیے بھی اگر جدید علوم ، جدید ٹیکنالوجی اور تحقیق ومعلومات نہ ہوں تو آپ آگے نہیں بڑھ سکتے اس لئے ہمیں ہر شعبے میں جدید علوم حاصل کرنا بہت ضروری ہے۔
    زیر تبصرہ کتا ب’’ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ‘‘ جناب عبد الرحمٰن فاتح کی تصنیف ہے کتاب کا طرزِ بیان دلنشیں اور عام فہم ہے۔ مصنف نے اس کتاب میں سات ترقی یافتہ ممالک ( فرانس ، چین ، جاپان ،انگلستان ،جرمنی ، سوویت یونین ،امریکہ) کی معاشی ترقی کو جامع انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہےاور گرافوں اور گوشواروں سے مدد لی ہے یہ کتاب پاکستان کی مختلف یونیورسٹیوں کے ایم اے معاشیات کے پرچہ ’’ ترقی یافتہ ممالک کی معاشی ترقی کی تاریخ‘‘ کے سلیبس کے مطابق مرتب کی گئی ہے طلبہ وطالبات کے لیے اس کتاب کا مطالعہ پاکستان کی اقتصادی ترقی اور منصوبہ بندی کےسلسلہ میں مفید ہے کیونکہ...

  • 10 سرمایہ دارانہ نظام ایک تنقیدی جائزہ (ہفتہ 21 جولائی 2018ء)

    مشاہدات:327

    سرمایہ دارانہ نظام انگریزی ایک معاشی و معاشرتی نظام ہے جس میں سرمایہ بطور عاملِ پیدائش نجی شعبہ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ یعنی دوسرے الفاظ میں کرنسی چھاپنے کا اختیار حکومت کی بجائے  کسی پرائیوٹ بینک کے اختیار میں ہوتا ہے۔اشتراکی نظام کے برعکس سرمایہ دارانہ نظام میں نجی شعبہ کی ترقی معکوس نہیں ہوتی بلکہ سرمایہ داروں کی ملکیت میں سرمایہ کا ارتکاز ہوتا ہے اور امیر امیر تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس میں منڈی آزاد ہوتی ہے اس لیے اسے آزاد منڈی کا نظام بھی کہا جاتا ہے۔ اگرچہ آج کل کہیں بھی منڈی مکمل طور پر آزاد نہیں ہوتی مگر نظریاتی طور پر ایک سرمایہ دارانہ نظام میں منڈی مکمل طور پر آزاد ہوگی۔ جملہ حقوق، منافع خوری اور نجی ملکیت اس نظام کی وہ خصوصیات ہیں جس سے سرمایہ دارانہ نظام کے مخالفین کے مطابق غریبوں کا خون چوسا جاتا ہے۔ جدید دانشوروں کے مطابق آج سرمایہ دارانہ نظام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا ہے اور ایک متبادل نظام کی آوازیں شدت سے اٹھنا شروع ہو گئیں ہیں۔ مختصراًسرمایہ دارانہ نظام یہ کہتا ہے کہ ذاتی منافع کے لئے اور ذاتی دولت و جائیداداور پیداواری وسا‏‏ئل رکھنے میں ہر شخص مکمل طور پر آزاد ہے، حکومت کی طرف سے اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔ تاہم دنیا میں سو فیصد (%100)سرمایہ دارانہ نظام کسی بھی جگہ ممکن نہیں، کیونکہ حکومت کو کسی نہ کسی طرح لوگوں کے کاروبار میں مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ امریکہ، برطانیہ، فرانس، اٹلی وغیرہ میں سرمایہ دارانہ نظام ہیں۔سرمایہ دارانہ نظام کا سارا نظام سود پر مبنی ہیں۔ سود ہی کے ذریعے مغربی طاقتیں پورے پورے ممالک کو تباہ کر...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 152
  • اس ہفتے کے قارئین: 3100
  • اس ماہ کے قارئین: 9963
  • کل مشاہدات: 41448770

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں