دکھائیں کتب
  • 1 تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات (منگل 22 اگست 2017ء)

    مشاہدات:520

    اللہ عزوجل نے اپنے بندوں پر ایمان وعقیدہ کے بعد جو عبادتیں فرض فرمائی ہیں ان میں سے کچھ کا تعلق جسم اور مال دونوں سے ہے ‘ کچھ کا صرف جسم سے ہے او رکچھ کا صرف مال سے ۔ جہاد وہ عبادت ہے جس کا تعلق صرف جسم ومال دونوں  سے ہے اور مال وجان  انسانوں کی وہ محبوب چیز ہے جس کی تحصیل کے سلسلے میں عام طور سے انسان کسی حد پر پہنچ کر قناعت نہیں کرتا بلکہ مزید سے مزید حاصل کرنے کے لیے ہمہ وقت کوشاں رہتا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ بہت سے خدا نا ترس لوگ مال کی خاطر جائز وناجائز کی بھی پروا نہیں کرتے اور اپنی جان کی حفاظت میں ہمہ وقت فکر مند رہتا ہے لیکن یہی جان اللہ کی راہ میں پیش کرنا جہاد کہلاتا ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب  میں  جہاد ہی سے متعلق تفصیلات ذکر کی گئی ہیں۔ اس می مصنف نے  ان تمام اعتراضات اور اتہامات کا ذکر کیا ہے جو مخالفین کی طرف سے جہاد اسلامی اور رسالت مآبﷺ کی سیرت طیبہ پر لگائے جاتے ہیں اور ان کے مدلل اور مسکت جوابات بھی نہایت اختصار اور جامعیت کے ساتھ دے دیئے گئے ہیں جن کی تفصیل کتاب اور ضمیمہ جات میں درج کی گئی ہے۔ اس کتاب میں بارہ باب  بھی قائم کیے گئے ۔  اس کتاب کے مطالعے سے عوام کم وقت میں زیادہ معلومات حاصل کر سکتے ہیں ۔ یہ کتاب’’ تحقیق الجہاد مع ضمیمہ جات ‘‘ مولوی چراغ علی   کی مرتب کردہ ہے۔آپ تصنیف وتالیف کا عمدہ شوق رکھتے ہیں‘ اس کتاب کے علاوہ آپ کی اور کتب بھی ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مؤلف وجملہ معاونین ومساعدین کو اجر جزیل سے نوازے اور اس کتاب کو ان کی میزان میں حسنات ک...

  • جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل میں شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے ، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا ، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے ، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم جہاد فی سبیل بارے کچھ اسلامی تعلیمات اور اس راہ میں اپنی جانیں لٹانے والوں کے فضائل پیش کریں گے۔ جہاد كا لغوى معنی طاقت اور وسعت كے مطابق قول و فعل كو صرف اور خرچ كرنا،اور شرعى معنى اللہ تعالى كا كلمہ اور دين بلند كرنے كے ليے مسلمانوں كا كفار كے خلاف قتال اور لڑائى كے ليے جدوجہد كرناہے۔ زیر تبصرہ کتاب ’’ شوق جہاد‘‘ ڈاکٹر ابوالحسن کی ہے۔ جس میں شوق جہاد اور ضعیف احادیث کی وضاحت فرماتے ہوئے مزید جہاد فی سبیل اللہ کی عظمت، سفر جہاد کی آمد و رفت اور جہادمیں پہرہ دینے کا شوق، سفر جہاد میں وفات، نیک اعمال اور مجاہد سے تعاون کا شوق، شوق شہادت، شہادت کے مختلف انداز اور اقسام اور گلدستۂ جہاد کو مفصل بیان کیا ہے۔ یہ کتاب اپنے اس موضوع پر ایک شاندار اور مفید کتاب ہے ،جس کا ہر طالب علم کو مطالعہ کرنا چاہئے۔اللہ تعالی مولف کی اس محنت کو قبول فرمائے۔آمین(رفیق الرحمن)

  • 4 فضائل الجہاد (اتوار 29 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:476

    جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل میں شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔ اور تو اور مومن مجاہدین کا اللہ کی راہ میں نکلنے کا عمل اللہ کو اتنا پسندیدہ ہے کہ اس کے مقابلے میں نیک سے نیک، صالح سے صالح مومن جو گھر بیٹھا ہے ، کسی صورت بھی اس مجاہد کے برابر نہیں ہو سکتا ، جو کہ اپنے جان و مال سمیت اللہ کے دین کی سربلدی اور اس کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو گرانے کے لئے ، کسی شہہ کی پرواہ کئے بغیر نکل کھڑا ہوا ہوتا ہے۔ذیل میں ہم جہاد فی سبیل بارے کچھ اسلامی تعلیمات اور اس راہ میں اپنی جانیں لٹانے والوں کے فضائل پیش کریں گے۔ جہاد كا لغوى معنی طاقت اور وسعت كے مطابق قول و فعل كو صرف اور خرچ كرنا،اور شرعى معنى اللہ تعالى كا كلمہ اور دين بلند كرنے كے ليے مسلمانوں كا كفار كے خلاف قتال اور لڑائى كے ليے جدوجہد كرناہے۔زیرِ تبصرہ کتاب خاص اسی موضوع پر ہے جس میں جہاد کے فضائل ومحاسن بیان کیے گئے ہیں۔اس کتاب میں جہاد کی فضیلت میں چالیس احادیث کو بیان کیا گیا ہے کہ اصح الکتب بعد کتاب اللہ،صحیح بخاری اور پھر صحیح مسلم سے لی گئی ہیں کیونکہ ان دونوں کتب کی صحت میں کوئی شک نہیں ہے اور پوری امت اور علماء کا تلقی بالقبول حاصل ہے۔مصنف﷾ نے صرف سردِ احادیث پر اکتفاء نہیں کیا بلکہ ہر حدیث کے سلیس ترجمہ کے بعد اس سے حاصل ہونے والے علمی فوائد ونکات کا بھی ذکر کیا ہے۔احادیث کے ذکر سے قبل‘موضوع کی مناسبت سے چند قرآنی آیات سے رسالہ کا آغاز کیا ہے ۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب&rs...

  • 5 فضائل الجہاد ( جدید ایڈیشن ) (ہفتہ 11 نومبر 2017ء)

    مشاہدات:700

    جہاد فی سبیل اللہ ، اللہ کو محبوب ترین اعمال میں سے ایک ہے اور اللہ تعالی نے بیش بہا انعامات جہاد فی سبیل مین شریک ایمان والوں کے لئے رکھے ہیں۔تاریخ شاہد ہے کہ جب تک مسلمانوں میں جہاد جاری رہا اس وقت تک اسلام کاغلبہ کفار پر پوری آب و تاب سے قائم تھا جونہی مسلمانوں نےاپنی بداعمالیوں اور تعیش پرستی کی وجہ سے جہاد فی سبیل اللہ کو چھوڑ دیا تو ذلت و مسکنت ان کا مقدر بن گئی۔ اور آج عالم اسلام کی حالت زار سے یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ کس قدر ذلت و رسوائی کا شکار ہے۔کفار ملت واحد بن کر بھیڑیوں کی طرح اہل اسلام پر ہر طرف سےجھپٹ رہے ہیں اور اُمت مسلمہ دشمن اسلام کے لگائے ہوئے گھاؤ سے گھائل جسم لئے ہوئے سسکیاں لے رہی ہے۔یقیناً جہاد جسےنبیؐ نے اسلام کی چوٹی کہا ہے جب تک اس علم کو تھاما نہیں جاتا ۔مسلمانوں کے ذلت و رسوائی اور مسکنت کے ادوار ختم نہیں ہوسکتے۔ بلاشبہ اللہ کے کلمے کو قائم کرنے کے لیے جہاد فی القتال کی جو اہمیت ہے وہ کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جہاد فی السیف یعنی جہاد فی القتل کی ناصرف ترغیب دی ہے بلکہ اس کے لیے بڑی زبردست خوشخبریاں بھی سنائیں ہیں اور قرآن میں جابجا مسلمانوں کو کفار کے ساتھ فیصلہ کن لڑائی کے لیے جہاد القتل کا ناصرف حکم دیا گیا ہے بلکہ اس سے پہلو تہی کرنے والوں کو سخت تنبیہات بھی کی گئیں ہیں اور شہدا کی جو اہمیت اور منازل ہمیں قرآن و حدیث سے ملتی ہیں وہ بلاشبہ قابل توجہ و قابل تقلید ہیں۔ اسی طرح جہاد کے شامل شہدا میں سے ان کے درجات بھی بڑے بلند فرمائے گئے ہیں جو جہاد سے متعلق کاموں یعنی مسلمانوں کے...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 162
  • اس ہفتے کے قارئین: 3110
  • اس ماہ کے قارئین: 9973
  • کل مشاہدات: 41448808

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں