دکھائیں کتب
  • 1 1000 سے زیادہ جنت کے راستے (منگل 27 جون 2017ء)

    مشاہدات:1527

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمہارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمہیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا ا...

  • 2 آل رسول و اصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواں (منگل 17 مارچ 2015ء)

    مشاہدات:2158

    یہ دعوی بے بنیاد اور تاریخ کی تحریف ہےکہ  اصحاب رسول ﷺ اور آل رسول ﷺ ایک  دوسرے کی دشمنی  دل میں چھپائے ہوئے تھے ۔ بلکہ وہ تو  کافروں پر بڑے سخت اور آپس  میں ایک دوسرے پر حم کرتے   تھے ۔اور ان کے  درمیان محبت ومودت تھی، ایک  دوسرے کااحترام واکرام تھا اور وہ  ایک دوسرے کی ثناخوانی میں رطب اللسان تھے ان  کے درمیان رشتے داری اور سسرالی رشتہ تھا وہ دین کی سربلندی کرنے ،رسول اللہﷺ کی مدد کرنے  اورکافروں کے خلاف جہاد کرنے میں شریک تھے۔اور یہ  بات ہر ایک کومعلوم ہے  کہ اصحاب رسول ﷺ اورآل رسول  سب اہل فضل اورافضل لوگ ہیں۔ زیر نظر کتاب ’’ آل رسول واصحاب رسول ایک دوسرے کے ثنا خواں ‘‘  ایک عربی کتاب ’’ الثناء  المتبال  بین  الآل  والاصحاب ‘‘ کا  اردو ترجمہ  ہے جس میں آل رسول کی طرف سے صحابہ کرام کی تعریف وتوصیف اور صحابہ  کرام کی طرف سے  آل  رسول  کی تعریف وتوصیف کے سلسلے میں نصوص پیش کیے گئے ہیں۔جس کے مطالعہ سے یہ بات  واضح طور پر معلوم ہوجاتی ہے  کہ آل رسول  اور اصحاب رسول  اپنے دلوں میں  ایک دوسرے  سے محبت ومودت اور عزت رکھتے تھے۔ اللہ  تعالیٰ مترجم وناشرین کی  اس کاوش کوقبول فرمائے اوراس کتاب کو  امت مسلمہ کے لیے   آل رسولﷺ واصحاب رسول ﷺسے  محبت اور ان کی عزت واحترام  کرنے کا ذریعہ بنائے (آمین)(م۔ا)

  • 3 ارکان اسلام (منگل 13 اکتوبر 2009ء)

    مشاہدات:18496
    مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے- مصنف نے اپنی کتاب  کو ارکان خمسہ کے اعتبار سے پانچ حصوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر ایک حصے میں الگ الگ ایک ایک رکن اسلام پر مدلل او رتفصیلی گفتگو کی ہے-پہلے حصے میں حقیقت توحید کو بیان کرتے ہوئے ایمان اور عمل صالح کی یکجائی کو حسن  کمال کے ساتھ بیان کیا گیا ہے-حقیقت التوحید میں خدا، کائنات اور فطرت کو موضوع بنایا گیا ہے جبکہ دوسرا حصہ حقیقت صلوۃ پر مشتمل ہے جس میں یہ واضح کیا ہے کہ اسلام کے نظام صلوۃ میں مرکزی حیثیت انسان کو حاصل ہے-حقیقت صلوۃ  میں مولانا نے مسائل صلوۃ کی بجائے نماز جس جوہر بندگی اور حقیقت عبدیت کا مظہر ہے، اس کی طرف اس انداز سے توجہ دلائی  ہے کہ مسلمان ہونے کا حقیقی مطلب لائق فہم ہوجاتا ہے-تیسرا حصہ حقیقت زکوۃ پر مشتمل ہے جس میں اسلام کے نظام زکوۃ کی افادیت پر زور دیا ہے-چوتھے حصے میں حقیقت صایم کی وضاحت کرتے ہوئے صیام کے بارے میں جو اسلامی تصور پیش کیا گیا ہے، کی مکمل وضاحت کرتے ہوئے زکوۃ کی قانونی ہیئت پر بھی عام اسلوب سے ہٹ کر مجتہدانہ انداز سے گفتگو کی ہے-پانچویں حصے میں حقیقت حج پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے جس میں حج کے موضوع پر لکھے جانے والے سارے لٹریچر سے نہ صرف یہ کہ منفرد ہے بلکہ اس میں حج کے عمل کو عظیم روحانی تناظر میں رکھ کر دیکھا گیا ہے-
  • 4 اسلام اور سیکولرزم (جمعہ 26 جون 2015ء)

    مشاہدات:3013

    ایک آزاد ملک میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہو اور انہیں سیاسی اقتدار بھی حاصل ہو،وہاں اسلام کا دائرہ کار کیا ہونا چاہئے؟وہ مسلمانوں کی فقط انفرادی زندگی ہی سے متعلق رہے یا ریاستی امور میں بھی اس کی بالا دستی کو تسلیم کیا جائے؟یہ مسئلہ ان فکری مسائل میں سر فہرست رہا ہے جو بیسویں صدی کے دوران پوری اسلامی دنیا میں زیر بحث رہے۔ مصر کو اس اعتبار سے مسلم دنیا میں نمایاں مقام حاصل ہے کہ یہاں ان بنیادی فکری مسائل پر بھرپور بحث ہوتی رہی ہے،اور انہی مسائل میں اسلام اور ریاست کے باہمی تعلق کا مسئلہ بھی موجود ہے۔اس صدی کی تیسری دہائی میں علی عبد الرزاق کی "الاسلام واصول الحکم"نامی کتاب سامنے آئی۔ جس میں انہوں نے یہ موقف اختیار کیا حکومت اور اس سے متعلقہ مسائل اسلام کے دائرہ کار کا حصہ نہیں ہیں۔اس کتاب کی اشاعت پر مصر کے دینی حلقوں میں شدید رد عمل پیدا ہوا اور اس موقف کی بڑے جوش وخروش سے تردید کی گئی۔الغرض بیسویں صدی میں دونوں نکتہ نظر کی متعدد کتب چھپ کر سامنے آئیں۔چند سال قبل مصر کے بائیں بازو کے ایک وقیع مفکر اور صاحب قلم جناب احمد فواد زکریا نے اپنی تحریروں سے خالص سیکولر نقطہ کی شدت سے وکالت کی ۔اس بار اسلامی نقطہ نظر کی وضاحت کے لئے عالم عرب کے نامور صاحب علم محترم ڈاکٹر یوسف القرضاوی صاحب سامنے آئے، اور زیر تبصرہ کتاب "اسلام اور سیکولرزم ایک موازنہ" تصنیف فرما کر سیکولرزم کے تصور کی نفی کی اور اسلام کے نظام حکومت کے خدوخال کو واضح کیا۔کتاب اصلا عربی میں لکھی گئی ہے جس کا اردو ترجمہ محترم ساجد الرحمن صدیقی صاحب نے کیا ہے۔ اللہ تعالی آپ ک...

  • 5 الکتاب المستطاب فی جواب فصل الخطاب (جمعہ 07 اگست 2015ء)

    مشاہدات:1702

    الحمدلله رب العالمين والصلاة والسلام على المبعوث رحمة للعالمين، أما بعد فالصراع العلمي والنضال المذهبي بين أهل الحديث والحنفية في القارة الباكندية (باكستان والهند ) أمر معروف و مشهور، و من المسائل المهمة التى كثر حولها الكلام والجدال مسئلة قراءة فاتحة الكتاب في الصلاة خلف الإمام " فوضعوا فيه التأليفات الكبار و سعوا فيما ادعوا من الإثبات والإنكار، ولكن المقلدين قد أكثروا الاستدلال بالرأي والقياس، وظنوا أنه يروج عند كثير من الناس، ثم إذا علموا كساده في سوق الدرايات والروايات، أرادوا أن يلبسوه لباس السنن والآيات، فتكلفوا بل حرفوا. و لم يعرفوا أن هذين العلمين، التكلف فيهما عين الشين وأيضا ليس فرسان هذا الميدان إلا من رزق الفهم في كتاب الله و نال الثريا للإيمان، و هم أهل الحديث الذين ساروا سيرا حثيثا، وأما أولئك فاشتغالهم بعلم الحديث قليل قديما و حديثا فلذا تراهم في كل مسئلة يناظرون فيها أهل الحديث قاصرين، وأهل الحديث عليهم ظاهرين، وكيف يدرك الظالع شأو الضليع، وهل يستوى الخالع والخليع، ومن حمل وزرا فوق طاقته، يهلك أو يسقط من ساعته" و على هذا المنوال ألف شيخ الحنفية العلامة أنور شاه الكشميري كتابه "فصل الخطاب" ودافع عن مذهبه و رد على مخالفه و اشتهر أو شُهِّر عند  بعض الناس بأن كتاب الشيخ المذكور ليس هناك من يستطيع الجواب عليه من أهل الحديث، بل" تحدى به متعصبةُ الحنفية أهلَ الحديث، بل أعلن مؤلفه أن لا يمكن للسلفيين أن يفهموا الكتاب!" حتى وصل الخبر إلى الشيخ الحافظ عبدالله الروبري، فتصدى للرد عليه وألف كتابا ماتعا و سماه "الكتاب المستطاب في جوا...

  • 6 تحفہ رمضان (جمعرات 26 جون 2014ء)

    مشاہدات:2674

    رمضان المبارک اسلامی سال کا  نواں مہینہ ہے  یہ مہینہ اپنی عظمتوں اور برکتوں کے  لحاظ سے  دیگر مہینوں سے  ممتاز  ہے  ۔رمضان المبارک وہی وہ مہینہ  ہےکہ جس میں اللہ تعالیٰ کی آخری آسمانی  کتاب قرآن مجید کا نزول لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر ہوا۔ ماہ رمضان میں  اللہ تعالی  جنت  کے دروازے کھول  دیتا ہے  او رجہنم  کے دروازے  بند کردیتا ہے  اور شیطان  کوجکڑ دیتا ہے تاکہ  وہ  اللہ کے بندے کو اس طر ح  گمراہ  نہ کرسکے  جس  طرح عام دنوں میں کرتا  ہے اور یہ ایک ایسا  مہینہ ہے  جس میں اللہ تعالی خصوصی طور پر اپنے  بندوں کی مغفرت کرتا ہے اور  سب  سے زیاد ہ  اپنے بندوں کو  جہنم  سے آزادی کا انعام  عطا کرتا ہے۔رمضان المبارک کے  روضے رکھنا اسلام کےبنیادی ارکان میں سے ہے  نبی کریم ﷺ نے ماہ رمضان اور اس میں کی  جانے والی عبادات  ( روزہ ،قیام  ، تلاوت قرآن ،صدقہ خیرات ،اعتکاف ،عبادت  لیلۃ القدر وغیرہ )کی  بڑی فضیلت بیان کی  ہے ۔  کتب احادیث میں ائمہ محدثین نے  کتاب الصیام  کے نام سے باقاعدہ عنوان قائم کیے  ۔ اور کئی  علماء اور اہل علم نے  رمضان المبارک  کے احکام ومسائل وفضائل کے  حوالے  سے کتب تصنیف کی  ہیں ۔زیر تبصرہ کتاب ’’تحفۂ رمضان ‘‘مولانا عبد الغفور اثری ﷫ کے سیالکوٹ کی  ایک مسجد میں رمضان المبارک میں  دیئے  گئے  دروس کا مجموعہ ہے  جس میں  انہو ں  ماہ رمضان کے فضائل وبرکات ،صوم رمضان کی فرضیت، قیام رمضان ، شب قدرآخری عشرہ  میں  عبادت اور نفلی روزوں  کی فضیلت کو  بڑے احسن انداز میں  دلائل کےساتھ  بیان کیا ہے ۔اللہ تعالیٰ ان کی  مساعی جمیلہ کوقبول فرمائےا...

  • 7 جنت اور اہل جنت (ہفتہ 01 ستمبر 2018ء)

    مشاہدات:744

    قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو تم یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے  انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے  تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔
    زیر تبصرہ کتاب ’’ جنت اور اہل جنت کتاب و سنت کی روشنی میں‘‘  اصل میں علامہ ابن قیم الجوزی (متوفیٰ 751ھ)  کی ’’حادی الاوراح الی بلاد الافراح‘‘  کا ترجمہ ہے۔جس میں قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں جنت اور اہل جنت سے متعلق تفضیلی معلومات پر مشتمل دلوں میں جنت کا شوق اور اس کے حصول  کے لئے عملی جدو جہد کا ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کتاب کو اردو قالب میں مولانا خورشید انور ندوی  مدنی نے ڈھال...

  • 8 جنت کا راستہ (جمعرات 12 اکتوبر 2017ء)

    مشاہدات:552

    اللہ رب العزت نے جن وانس کو صرف اپنی عبادت کے لیے پیدا فرمایا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ جس مقصد کے لیے بنی نوع انسان کی تخلیق کی گئی ہے اس مقصد کو پورا کریں اور دنیا یا اس کی آسائش کو حاصل کرنے میں اپنی قیمتی لمحات نہ گزار دیں جو نہ تو مستقل، نہ ہی اس کی کوئی اہمیت بلکہ ایک مسافر خانہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ عقل مند انسان وہ ہے اپنے لیے آخرت کی تیاری کرتے ہوئے دنیا میں گناہوں سے اجتناب کرے اور عبادت الٰہی میں مگن ہو جائے۔ ہماری تخلیق کا جب مقصد ہی عبادت الٰہی ہے تو ہم پر لازم ہے کہ ہم اپنے نفسانی خواہشات کو قابو میں رکھیں اور اپنے عقل وشعور کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنے آپ کو سلفِ صالحین کی راہ پرگامزن کریں اور عبادت کے لیے وہی طریقہ اختیار کریں جو نبیﷺ سے صحیح احادیث کی روشنی میں ثابت ہے اور اپنے عزیز واقارب کو بھی دعوت دیں کہ اپنی تخلیق کا اصل مقصد یاد رکھیں۔زیرِ تبصرہ کتاب میں خاص اسی سبق کو یاد کروایا گیا ہے اور جس کا عنوان’جنت کا راستہ‘ دیا گیا ہے اور اس میں عقائد‘ ارکان اسلام‘ ایمان‘ فضائل اعمال‘ اوامر ونواہی پر مشتمل ہر خاص وعام کے لی مفید مضامین جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کو ہر حوالے سے مکمل کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور یہ بھی رہنمائی کی گئی ہے کہ اگر کوئی دشواری ہو تو کسی مستند عالم سے رجوع کیا جائے۔اور اس کتاب میں جنت میں لے جانے والی راہوں کو بیان کیا گیا ہے تاکہ ان پر چل کر ہم اپنی راہیں ہموار کر سکیں۔ حوالہ جات سے کتاب کو مزین کیا گیا ہے۔ کتاب کا اسلوب نہایت عمدہ‘سادہ اور عام فہم ہے۔ یہ کتاب’&rs...

  • 9 جنت کی تلاش میں (جمعہ 29 نومبر 2013ء)

    مشاہدات:5237

    زیر نظر کتاب ’’ جنت کی تلاش میں ‘‘ ان احادیث مبارکہ پر مشتمل ہے ،جو جنت کو واجب کردینے والے  اعمال واسباب  سے متعلق ہیں۔ کتاب مختصر مگر جامع ہے۔ کتاب میں ذکر کردہ  احادیث مبارکہ کی صحت وضعف کو بیان کرنےکا بھی   اہتمام کیا گیا ہے۔  قارئین کرام اس  کتاب کا مطالعہ کرنے سے پہلے دوباتیں ذہن میں  رکھیں۔اول: اس کتاب میں وہ احادیث بیان کی گئی ہیں، جن میں جنت میں لے جانے والے اعمال کا ذکر ہے۔دوم: شرعی طور پریہ بات بالکل واضح اور طے شدہ ہے کہ جنت میں داخلہ صرف اللہ تعالیٰ کی رحمت سےہو گا۔ بندے کا عمل اس میں داخلے کی اصل بنیاد نہیں ہے،ہاں البتہ اعمال جنت میں دخول کا سبب ضرور ہیں۔یہ کتاب سعودی عرب کے معروف عالم دین شیخ عبد اللہ بن علی الجعیثن کی  تالیف ہے ،جسے اردو قالب میں ڈھالنے اور نشر  کرنے کی سعادت محترم طاہر نقاش کے حصے میں آءی ہے۔انہوں نے امت مسلمہ کو  جنت میں داخل ہونے کےلیے کءے جانے والے  ضروری اعمال کی ترغیب دی ہے کہ اگر جنت میں جانا چاہتے ہوتو کفروشرک کی پرزور آندھیوں میں اپنے عقیدے کے چراغ کو روشن رکھنا ہوگا،  تاکہ اس کی روشنی میں روز قیامت آسانی سے پل صراط پار کرکے جنت الفردوس تک پہنچ جائیں۔ان انعامات کے حصول کےلیے  عقیدہ کا قرآن وسنت کے مطابق ہونا ضروری ہے، عقائد کی درستگی اور جنت کے حصول کےلیے ’’ اصلاح عقیدہ ‘‘ اور  ’’ جنت کی تلاش میں ‘‘ جیسی کتب کا مطالعہ کریں۔(ک۔ح)
     

  • 10 جنت کی تلاش میں ( نگہت ہاشمی ) (جمعہ 16 جون 2017ء)

    مشاہدات:727

    جنت اللہ کےمحبوب بندوں کا آخری مقام ہے اور اطاعت گزروں کےلیے اللہ تعالیٰ کا عظیم انعام ہے ۔ یہ ایسا حسین اور خوبصورت باغ ہے جس کی مثال کوئی نہیں ۔یہ مقام مرنے کے بعد قیامت کے دن ان لوگوں کو ملے گا جنہوں نے دنیا میں ایمان لا کر نیک اور اچھے کام کیے ہیں۔ قرآن مجید نے جنت کی یہ تعریف کی ہے کہ اس میں نہریں بہتی ہوں گی، عالیشان عمارتیں ہوں گی،خدمت کے لیے حور و غلمان ملیں گے، انسان کی تمام جائز خواہشیں پوری ہوں گی، اور لوگ امن اور چین سے ابدی زندگی بسر کریں گے۔نبی کریم ﷺنے فرمایا ہے کہ:’’جنت میں ایسی ایسی نعمتیں ہیں جنھیں کسی آنکھ نے دیکھا نہیں نہ کسی کان نے ان کی تعریف سنی ہے نہ ہی ان کا تصور کسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا ہے۔‘‘(صحیح مسلم: 2825) اور ارشاد باری تعالیٰ ہے’’ ابدی جنتوں میں جتنی لوگ خود بھی داخل ہوں گے اور ان کے آباؤاجداد، ان کی بیویوں اور اولادوں میں سے جو نیک ہوں گے وہ بھی ان کے ساتھ جنت میں جائیں گے، جنت کے ہر دروازے سے فرشتے اہل جنت کے پاس آئیں گے اور کہیں گے تم پر سلامتی ہو یہ جنت تمھارے صبر کا نتیجہ ہے آخرت کا گھر تمھیں مبارک ہو‘‘۔(سورۂ الرعدآیت نمبر: 23،24) حصول جنت کےلیے انسان کو کوئی بھی قیمت ادا کرنی پڑے تو اسے ادا کرکے اس کامالک ضرور بنے۔جنت کاحصول بہت آسان ہے یہ ہر اس شخص کومل سکتی ہے جو صدق نیت سے اس کےحصول کے لیے کوشش کرے ۔ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے بندوں کے لیے ہی بنایا ہے اور یقیناً اس نے اپنے بندوں کوہی عطا کرنی ہے ۔لیکن ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہمیں کماحقہ اس کا بندہ بننا پڑےگا۔...

ایڈوانس سرچ

اعدادو شمار

  • آج کے قارئین: 205
  • اس ہفتے کے قارئین: 3654
  • اس ماہ کے قارئین: 10517
  • کل مشاہدات: 41450741

موضوعاتی فہرست

ای میل سبسکرپشن

محدث لائبریری کی اپ ڈیٹس بذریعہ ای میل وصول کرنے کے لئے ای میل درج کر کے سبسکرائب کے بٹن پر کلک کیجئے۔

رجسٹرڈ اراکین

ایڈریس

        99--جے ماڈل ٹاؤن،
        نزد کلمہ چوک،
        لاہور، 54700 پاکستان

       0092-42-35866396، 35866476، 35839404

       0092-423-5836016، 5837311

       library@mohaddis.com

       بنک تفصیلات کے لیے یہاں کلک کریں